skip to main |
skip to sidebar
ا رے باپ رے گرمی آئی
ڈاکٹر فریاد آزرؔ کا ادبی بلاگ
صفحات
بچوں کے لئے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بچوں کے لئے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
منگل، 12 مئی، 2020
بدھ، 20 نومبر، 2013
سردی آئی سردی آئی
سردی آئی سردی آئی
سورج نے بھی اوڑھی رضائی
سردی آئی! سردی آئی!
سب لوگوں میں مچی دہائی
سردی آئی! سردی آئی!
کوّا بولا کائیں کائیں
بلّی بولی میاؤں، میاؤں
چوہا بولا دھوپ نہیں ہے
دھوپ آئے تو باہر جاؤں
سویٹر پہنے ہوئے گلہری
کونے میں چھپ کر بیٹھی ہے
اور بندریا کمبل اوڑھے
صوفے پر کیسی اینٹھی ہے
تھر تھر تھر تھر کانپ رہا ہے
گیدڑ بھی سردی کے مارے
مرغا بولا گرمی کے دن
ہم کو لگتے سب سے پیارے
جب آئی اسکول میں چڑیا
چپکے سے وہ بھی چلائی
شور مچانے لگے سبھی پھر
سورج نے بھی اوڑھی رضائی
سردی آئی! سردی آئی!
سب لوگوں میں مچی دہائی
سردی آئی! سردی آئی!
کوّا بولا کائیں کائیں
بلّی بولی میاؤں، میاؤں
چوہا بولا دھوپ نہیں ہے
دھوپ آئے تو باہر جاؤں
سویٹر پہنے ہوئے گلہری
کونے میں چھپ کر بیٹھی ہے
اور بندریا کمبل اوڑھے
صوفے پر کیسی اینٹھی ہے
تھر تھر تھر تھر کانپ رہا ہے
گیدڑ بھی سردی کے مارے
مرغا بولا گرمی کے دن
ہم کو لگتے سب سے پیارے
جب آئی اسکول میں چڑیا
چپکے سے وہ بھی چلائی
شور مچانے لگے سبھی پھر
سردی
آئی! سردی آئی!
ڈاکٹر فریاد آزرؔ
منگل، 8 اکتوبر، 2013
Are bap re Garmi aai
ا رے باپ رے گرمی آئی
سورج نے پھر ڈھائی
قیامت
سب لوگوں پر آئی آفت
اُلّو تک کو آیا
پسینہ
سر پر آیا جون مہینہ
برف پہ لیٹی چوہیا
تائی
ارے باپ رے گرمی آئی
سَو سَو بار گلہری
رانی
پیتی رہتی فِرج کا
پانی
ہفتہ ہو، اتوار کہ
منگل
گیدڑ پیتا ٹھنڈی بوتل
بھالو کے گھر فَین
نہیں ہے
اس کو بالکل چین نہیں
ہے
کچھوے کی اچھی پوزیشن
اس کا گھر ایئر
کنڈیشن
دھوپ میں ننھی چھتری
لے کر
بندر جی جاتے ہیں
دفتر
بھوک نہیں، ہاں پیاس
کا مارا
ہانپتا ہے کتنا بے
چارا
چپ سادھے ہیں مینڈک
بھائی
ارے باپ رے گرمی آئی!






