‏مضامین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مضامین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 16 اگست، 2015

Dr.Fariyad Azer :By Dr.Manazir Ashiq Harganvi


فریاد آزرؔ کی غزلوں میں تخلیقی توانائی


ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی 

انسان کی تخلیقات خواہ عمارت ہو یا فنونِ لطیفہ کے شاہکار یا مختلف اوزار یا مشین،سب مادی کلچر کا جز ہیں۔ کسی قوم یا طبقہ کی             بنائی ہوئی چیزوں پرنظر ڈالنے سے ہم اس قوم یا طبقے کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں۔آثارِقدیمہ کے ماہرین کاایک خاص کام یہ ہے کہ وہ مادیRelies کی ددریافتوں کی بنا پر نا پید سماج کے اطوارِحیات کو از سرِ نو شکل دیں۔کرداری عمل کچھ ایسے اثرات و نتائج پیدا کر سکتا ہے جو ذہنی رویوں یا عقیدوں کی شکل میں زندہ رہتے ہیں اور ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے ہیں۔گو اس عمل کے دوران وہ تغیر کی زد سے محفوظ نہیں ہوتے ۔یوں کسی سماج کے مقاصدو اقدار بھی اس کے کلچر کا جزو قرار پاتے ہیں۔اس میں کھیل کود کا شوق،جانوروں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ،مذہبی عقائد اورمذہبی عقائد اور ادب کی تخلیق بھی شامل ہے۔

ادب کی تخلیق میں شاعری خصوصاً غزل کا اکتساب عمل میں آتا ہے۔ہمارے چاروں طرف جو کچھ چیزیں بکھری ہوئی ہیں      وہ محض فریبِ نظر ہیں یا یہ زندگی جو ہمارے اندر ہے وہی ان چیزوں میں بھی ہے اور آگہی در اصل مماثلت پہچاننے کا نام ہے۔ جب ہم اپنی ذات سے باہر کی چیزوں کا ذکر کرتے ہیں تو ایسا ہی ہے جیسے ہم اندر کی چیزوں کا ذکر کرتے ہیں۔فن کار اس چیز کی نقل کرتا ہے جو کسی شے کے اندر ہے اور جو پیکر اور موسم کے ذریعہ فعال ہوتی ہے اور علامتوں، تشبیہوں سے گفتگو کرتی ہے۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس صورت میں فن پارہ تخلیق کرنے کی امید میں ہے جو معروضی طور پر صحیح معنوں میں فطری ہے اور تاثرات کے لحاظ سے انسانی ہے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اظہار کے بغیر اصل کی حقیقت انکشافی نہیں ہوتی اور پرجوش اظہار شاعری سے ہی ممکن ہے۔

فریاد آزر بھی شاعر ہیں اور بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں ان کی غزلیں نفسِ مضمون کے اعتبار سے اعلا درجہ کی صداقت اور سنجیدگی کی خصوصیات رکھتی ہیں۔فریاد آزر کا رویہ زندگی پر ان کی تنقید،وسعتِ نظر،آزاد خیالی،فراخ دلی،ہوش مندی اور اعلا سنجیدگی ان کے تصوراتِ حیات میں موجود ہیں:
لمحہ لمحہ سلگتی ہوئی زندگی کی مسلسل قیامت میں ہیں! 
ہم ازل سے چمکتی ہوئی خواہشوں کی طلسمی حراست میں ہیں

اس کے کہنے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ زندگی آخرت عکس ہے
اب ہمیں سوچنا ہے کہ ہم لوگ دوزخ میں ہیں یا کہ جنت میں ہیں


ننھے بچپن میں بزرگوں سا تھا جس کا رکھ رکھاؤ
زندگی کی دوڑ میں وہ آدمی بچہ لگا 

بدلے میں اُس کی موت مرا میں تمام عمر
وہ شخص جی گیا مرے حصے کی زندگی

وہ آدمی جوان رہے گا تمام عمر
بچپن میں جی چکا ہے جوبوڑھے کی زندگی
فریاد آزر کی غزلوں میں امکانی بیداری اور شعوری جدو جہد سے آگاہی ملتی ہے۔ ان کے تصورات کی وسعت اور احساس کی بے پناہ شدت میں ان کا فن مضمر ہے:
منتظر ہے وہ لمحہ ہمارا‘ہمارے سب اعمال نامے لیے
اور ہم بسترِ زندگی پر بڑے ناز سے خوابِ غفلت میں ہیں 

یاس‘ محرومی‘ محبت‘ کرب‘ خوش فہمی‘ انا
اتنے ساماں تھے‘ مرا تنہا مکاں چھوٹا لگا

نئی رُتوں نے ہوا کی رَو سے نہ جانے کیا ساز باز کرلی
کہ سبز صدیوں سے گونجتی آرہی ندائے اذان بھی چپ

یم بہ یم صحرا بہ صحرا نقشِ جاں جلتا ہوا
آتشِ نمرود میں سارا جہاں جلتا ہوا



جسم سے باہر سنہرے موسموں کا سبز لمس
روح کی تہ میں کوئی آتش فشاں جلتا ہوا

پرندے لوہے کے‘ کنکر بموں کے پھینکتے ہیں
عذاب ہم پہ ہے کیوں ابرہہ کے لہجے میں
فریاد آزر روشن ذہن اور دردمند دل رکھتے ہیں وہ اپنی غزلوں میں تنگ نظری،تعصب، رجعت پسندی،مصلحت کوشی اور مفاد پرستی سے نبرد آزما نظر آتے ہیں۔ انھوں نے آئینہ خانے سجائے ہیں اور سنگ خاروں کو اچھالا ہے۔روایتی اصولوں کی زنجیریں انھیں مقید نہیں کرتیں اور خیال کی رو سے وہ ایک نئی دنیا تعمیر کرتے ہیں جس میں لفظیات ان کے اپنے ہیں اور کہنے کا لہجہ ان کاا پنا ہے۔فکر فن کے ادراک و آگہی کی رچی بسی کیفیت دیکھئے: 
سب میں کرایے داروں کے پایے گیے نشاں
جسموں کے شہر میں کوئی خالی مکاں نہ تھا 

صبح ہوتی ہے تو دفتر میں بدل جاتا ہے
یہ مکاں رات کو پھر گھر میں بدل جاتا ہے

زہر کا رنگ اس کے بھی ہوجاتا حیرت سے سفید
گر کبھی نیلا سراپا میرا‘ شنکر دیکھتا

میں اپنی قبر میں محوِ عذاب تھا لیکن
زمانہ خوش ہوا دیوار پر سجا کے مجھے

فریاد آزر کا تجربہ غزل کے سانچے میں ڈھلتا ہے اور احساس کی شدت کا اظہار قدم قدم پر نمایاں ہوتا ہے۔ان کی غزلیں داخلی دروں بینی اور خارجی مسائل کی طرف ذہنوں کو متوجہ کرتی ہیں۔ سحر انگیزی، رعنائی و زیبائی،سوچ کی وسعت اور ذخیرہء الفاط کی افضلیت فریاد آزر کو اپنے ہم عصروں میں نمایاں کرتی ہیں۔متحرک اور فعال پیکر اور واقعے کی آشنائی،معنی خیزی اور شناسائی ان کی غزلوں میں جیتی جاگتی نظر آتی ہیں:
جانے کس سمت سے آئی تھی ہوائے سازش
آگ میں وادیِ کشمیر نظر آنے لگی

اب کے برس بھی جھوٹ ہمارا پیٹ بھرے گا
سچائی افلاس لکھے گی اب کے برس بھی

کیا المیہ ہے سنہرے موسموں کے کارواں کا
سب سفر میں ہیں‘ کسی کا ہمسفر کوئی نہیں ہے

سبھی کو زہر اپنے اپنے حصے کا پڑا پینا
نئی تہذیب نے شاید کوئی شنکر نہیں پایا

یہاں فرار کی راہیں تو ہیں مگر مسدود
کہاں کو جائے کوئی کائنات سے بچ کر

میں اپنی لاش کو تنہا ہی دفن کرلوں گا
کہ تم بھی جاؤ‘ سبھی لوگ گھر گئے اپنے


اب مناظر جنگلوں کے بھی ڈسیلے ہوگئے
مبتلا جدت پرستی میں قبیلے ہوگئے

ہاتھ ملتی رہ گئیں سب خوب سیرت لڑکیاں 
خوبصورت لڑکیوں کے ہاتھ پیلے ہوگئے

ہم اپنے بچوں کو اردو سے رکھ کے ناواقف
مٹا رہے ہیں سنہری زبان قسطوں میں

یہ کیا ہوا کہ بڑھاپا اچانک آ پہنچا
ہم ایسے لوگ ہوئے تھے جوان قسطوں میں

آج کے مشینی دورمیں طاقت آزمائی اور نئے اقتصادی نظام کی ہلچل نے فرد کی ذات کو پارہ پارہ کر دیا ہے اور وہ اس شورو شغب سے بھر پور دنیا میں خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ تنہائی کے کرب نے اسے بے چین اور بے زار کر دیا ہے، اسی لئے درد کی چیخ پرسکون فضا میں ارتعاش پیدا کر رہی ہے۔ فریاد آزر زندگی کا محور تلاشتے ہیں اور زائیدہ جہت کے معانی کے ابعاد کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان انگنت رنگ کی مصوری اس طرح سامنے آتی ہے:
میں اپنی روح لیے دربدر بھٹکتا رہا
بدن سے دور مکمل وجود تھا میرا

جی رہا ہے وعدۂ فردا پہ تیرے اے خدا
ورنہ اس بندے کو تیرا یہ جہاں چھوٹا لگا

نہ جانے کن خواہشوں کی شدت کا شور کمرے میں گونجتا تھا
نہ جانے کیا کہہ گئی ہوا‘ ہوگیا وہ خالی مکان بھی چپ

چہرے سبھی کے لگتے تھے مہمان سے مگر
خود کے سوا کسی کا کوئی میزباں نہ تھا

کس کی خاطر اوڑھ رکّھی ہے ردائے انتظاراں
اس نئی رُت میں کسی کا منتَظر کوئی نہیں ہے

بہت اکتا کے آیاتھا وہ خالی پن سے اندر کے 
جو دیکھا غور سے اس نے تو کچھ باہر نہیں پایا

صنعتی ترقی نے فضا کو ہی دھوئیں سے بھر دیا ہے بلکہ خود انسانی روح بھی اس عفریت سے متاثر ہوئی ہے اور برابر ہو رہی ہے۔انسانی زندگی اورجذبات سے بھرے پرے دل پر کالے دھوئیں کی موٹی تہیں چڑھی ہوئی ہیں جن کو کھرچنے کے لئے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔جب تک ایک تہہ کو کھرچیں اس کے اوپر کئی اور پرتیں جم جاتی ہیں۔ فریاد آزراس سچائی سے کما حقہٗ واقف ہیں،اسی لئے واضح اسلوب میں عصری حسیت کو برتتے ہیں اور شاعرانہ حسن کے ساتھ اپنے درد کے مرقعوں میں خونِ جگر سے رنگ بھرتے ہیں اور زندگی کی نیرنگی اور کلفت کا احساس دلاتے ہیں:
ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہوگیا
میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہوگیا

نہ کوئی دوست‘ نہ ساتھی نہ کوئی رشتہ دار
غریب کیا ہوئے سب لوگ مر گئے اپنے

تیری سیرت پسند تھی ورنہ
تیری صورت کی لڑکیاں تھیں بہت

دفن کر دیتا تھا پیدا ہوتے ہی عہدِ قدیم 
رحم ہی میں مار دیتا ہے اسے دورِ جدید 

پھر وہی منظر نظر کے سامنے کیوں آگیا
کربلا، خوں ریزی، کوفہ، تشنگی، صحرا، فرات

فریاد آزر نے لفظیات سے معنی کے نئے اسرار کھولے ہیں اور تکمیلِ احساس و جذبات کو نیا روپ دیا ہے۔وہ اساطیر سے بھی کام لیتے ہیں اور عالمی سطح پر ہونے والی افادیت پرستی زور زبردستی بلکہ دادا گری کوبھی اجاگر کرتے ہیں کہ اکتشافاتِ حاضرہ نے عمل و خیال کی ڈکشنری ہی بدل دی ہے۔بڑی طاقت یا پاور ہاؤس اور اس کی پشت پر سوار مطلب پرست ممالک کی نگاہ اسلامی ممالک اور وہاں کے تیل پر ہے جس کے حصول کے لئے وقت کے بے حس بنا دیا گیا ہے۔ اس طرح آتشِ دل اور شرارِ ادراک کو دو آتشہ نہیں بلکہ تہس نہس کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔عالمی دہشت گردی کا چہرہ سفاک ہے جس کے بارے میں جان کر فریاد آزر یہ کہنے پر مجبور ہوئے:
صحرا سے العطش کی صدا آرہی ہے پھر 
تاریخ اپنے آپ کو دہرارہی ہے پھر 

شہر تھا شہروں میں اک، بغداد کہتے تھے جسے
اور دریاؤں میں آزرؔ ایک تھا دریا فرات

ہر آن سازشِ نو میں پھنسانا چاہتا ہے 
میں سر اٹھاہی نہ پاؤں زمانا چاہتا ہے 


اس نے میرا نام شوریدہ سروں میں لکھ دیا 
اور خود کو امن کے پیغمبروں میں لکھ دیا 

کربلا ہو کہ فلسطین کہ ہو بوسنیا!
درد صدیوں سے مرا نام و نسب جانتا ہے

وہ یہاں ندیاں بہا سکتا ہے لیکن خوں کی
اُس کو ہر رنگ میں صحرائے عرب جانتا ہے
دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فساد کاننگا ناچ ہندستان میں بھی ہوتا رہا ہے۔بھاگل پور کا جب فساد ہوا تو ایک سو تین گاؤں میں یہ فساد پھیلا۔ نتیجے میں بڑے پیمانہ پر مار کاٹ کا سلسلہ چلا۔ ایک سو نو لاشوں کو کھیتوں میں گاڑ کر گیہوں کی فصل اگا دی گئی تھی۔ لوگائی گاؤں کے اس انسانیت سوز بربریت پر بہت لکھا گیا۔ فریاد آزر کا درج ذیل شعر شاید اسی خونیں واقعہ سے جڑا ہوا ہے۔
جہاں فساد میں اعضائے جسم کٹ کے گرے
اسی زمین سے ہم لخت لخت اگنے لگے
محبت اور رفاقت کو تہہِ تیغ کر کے سوندھی مٹی کی سرزمین گجرات میں جیسا فرقہ وارانہ فساد ہوا اسے دیکھنے اور بھوگنے والوں کی کیفیت دیکھئے:
فضائے آتشِ گجرات سے جو بچ نکلے
پرندے پھر نہ گئے لوٹ کر جہنم میں
ایسا خون آلود کھیل سیاست داں اپنے فائدے کے لئے کھیلتے ہیں اور سیاسی پارٹیاں یہ ناچ نچواتی ہیں۔فریاد آزر بلا جھجھک کہتے ہیں:
سروں کی فسل کٹتے دیکھنا اس کی سیاست ہے
ہے اس کا مشغلہ صحنِ فضا میں زہر بونے کا
فریاد آزر بیکری میں زندہ جلانے کو بھی یاد کرتے ہیں لیکن خوف اور بے بسی میں جینے والوں کی کیفیت بھی بیان کرتے ہیں:
اچھا ہوا کہ لوگ بیاں سے مکر گئے
بھن جاتے ورنہ وہ بھی کسی ’بیکری ‘کے ساتھ
لیکن فریاد آزر نا امید نہیں ہیں۔باطن کے پر اسرار نہاں خانے کی گتھیوں کو تعمیم و تاثیر کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا تخلیقی شعور آگاہی لئے ہوئے ہے جو تطہیر کے مرحلے سے گزر کر شعری پیکرمین ڈھلتا ہے:
ظلم سے یکسر زمیں کو پاک ہونا چاہئے
ظالموں کو اب سپردِ خاک ہونا چاہئے

اس نے بھی نہریں بہائی ہیں ابلتے خون کی
خاتمہ اس کا بھی عبرت ناک ہونا چاہئے
فریاد آزر مسلم قوم کی بے بضاعتی اور بے بسی کو بے حسی مانتے ہیں کہ ذات کے عرفان کے بغیرسماجی حقیقت کے راز وہ نہیں پاسکتے۔ وہ اخلاقی ابتری کے شکار ہیں اور چیرہ دستیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔خلاقانہ تصرف کے لئے فریاد آزر سیاق و سباق کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
ہیں لوگ اپنے اپنے ہی خیموں کی فکر میں 
اور سازشوں میں قوم بٹی جا رہی ہے پھر 

جداجدا رگِ ظالم پہ وار کرتے ہیں
ستم زدہ کبھی وحدت میں کیوں نہیں آتے

آج اپنی حیثیت کا جائزہ لیتے نہیں
عظمتِ رفتہ کا بس ہم کو فسانہ یاد ہے

شاہی محلوں سے مٹاکر مجھ کو بے حس وقت نے
جا بہ جاسہمے، شکستہ مقبروں میں لکھ دیا
آج اکیسویں صدی میں مخصوص ذہنیت پوری دنیا کی نصابی کتا بوں میں اور تاریخی کتابوں میں بھی اسلام کے ابواب حذف کرنے،اس میں تصرف کرنے اور زہر آلود مواد بھرنے میں لگی ہوئی ہے۔فرضی کہانیوں یا فرضی واقعے کو تاریخی حقائق کے نام پر پیش کر کے سماج کو ایک مخصوص ڈگر پر ڈالنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ ایک مخصوص ذہنیت کے لوگ اقلیتوں کے خلاف نفرت و ناراضگی کا بھرم پیدا کر کے معاشرے کے ساتھ نا انصافی اور زیادتی کر رہے ہیں۔فریاد آزر نے فکری وابستگی کے ساتھ احتجاج کیا ہے:
بچوں پہ ایسا جادو چلا ہے نصاب کا
اکبر کا نام لینے لگے غزنوی کے ساتھ
آج مسلمانوں کو ہر طرح بدنام کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ کوئی بھی حادثہ ہوتا ہے مسلمانوں کو اشتہاری مجرم بنایا جاتا ہے،انھیں جیلوں میں بھر دیا جاتا ہے اور طرح طرح کی اذیتیں دی جاتی ہیں،غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے،اشتعال انگیزی کی جاتی ہے،غیظ و غضب کا اظہار کیا جاتا ہے اور مبالغہ آرائی کو ہوا دے کر زہر اگلنے کا کرتب دکھایا جاتا ہے۔فریاد آزر آفاقی شعور رکھتے ہیں،ژرف نگاہی سے کام لیتے ہیں،سچائی کی بصیرت سامنے لاتے ہیں،استعماری نظام کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور معاشرہ کی متضاد گمراہی کو اجاگر کرتے ہیں۔ اسی لئے لگتا ہے کہ ہم تاریخ کش اور ضمیر کش عہد میں جی رہے ہیں:
وہ جرم میں نے جسے ایک بار بھی نہ کیا 
اسے قبول مجھے بار بار کرنا پڑا

بھر رہا تھا زہر وہ معصوم ذہنوں میں مگر
ہمپہ نفرت گھولنے کا جرم عائد ہو گیا

ہندو کوئی تو کوئی مسلمان بن گیا
انسانیت بھی مذہبی خانوں میں بٹ گئی

کہیں بھی قتل ہو کیسی عجیب سازش ہے
لہو میں ڈوبی ہوئی میری آستین لگے

جہاں کہیں بھی میں طاقت کی شکلمیں ابھروں
کسی بہانے وہ مجھ کو دبانا چاہتا ہے

مرے وجود سے اس درجہ خوف ہے اس کو
کہ میرا نام و نشاں ہی مٹانا چاہتا ہے
فریاد آزر کا وژن کرب و اذیت سے بھرا ہوا ہے ۔معاصر عہد کے انسان کی بے جہتی اور بے راہ روی ساتھ ہی انتشار اور ابتری کا اظہار وہ مخصوص پیرائے میں کرتے ہیں،ان کا لہجہ،ان کا اسلوب بے حد واضح ہیاستعاری کی پیچیدگی بلکل نہیں ہے البتہ لسانی جست و کشاد میں اشارے ضرور ہیں۔انھوں نے لفطیات کو کثیرالجہت بنایا ہے اور برتتے وقت اس کا خیال رکھ ہے کہ تنوع برقرار رہے۔ لطیف جذبات کے اظہار میں وہ منفرد پہچان رکھتے ہیں اور لب و لہجہ کے اچھوتے پن کی وجہ سے اپنے ہم عصروں میں الگ شخصیت کے مالک ہیں۔زبان پر گہری دسترس کی وجہ سے الفاظ کو نت نئے انداز میں بھی استعمال کرتے ہیں جس سے مفاہیم کی نئی دنیا آباد ہوتی ہے۔فریاد آزر نفسیات کے بھی ماہر ہیں۔وہ شاعرانہ حسن اور صناعانہ کمال کے ساتھ انسانی فطرت کی گہری واقفیت کو تاثیر کا پیکر بناتے ہیں اور سادہ پر سوز آہنگ کے ساتھ ساتھ فکر کی نمائندگی کرتے ہیں:
میں اس کی باتوں مین غم اپنا بھول جاتا مگر
وہ شخص رونے لگا خود ہنسا ہنسا کے مجھے

اسے یقین کہ میں جان دے نہ پاؤں گا
مجھے یہ خوف کہ روئے گا آزما کے مجھے

خامشی اس کی جان لیوا تھی
اور باتوں میں تلخیاں تھیں بہت

فریاد آزر نے دنیائے کیف ورنگ کو تخلیقی توانائی عطا کی ہے۔وہ غزل کے مزاج کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور اس شعور و احساس کو سلیقے سے برتنے جکا ہنر جانتے ہیں۔ان کی غزلیں تازہ کار،نکتہ آفریں اور عصری حسیت سے بھرپور ہیں۔ وہ زمینی تجربہ کو جذب کر کے جاں گسل بناتے ہیں اور سوز کے ساتھ ردِ عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ان کے حرکی پیکر حقیقی احساسات کے آئینہ دار ہیں۔
*****

جمعہ، 15 اگست، 2014

سبز آدمی کی تلاش اور آزر ؔ کا جہانِ غزل

سبز آدمی کی تلاش اور آزر ؔ کا جہانِ غزل
ڈاکٹر مولا بخش
صدر شعبۂ اردو،دیال سنگھ کالج
دہلی یونیورسٹی،دہلی
تجھ سے بچھڑے تو آغوشِ مادر میں، پھر گود میں، پھر سفر در سفر
دیکھ پھر تجھ سے ملنے کی خواہش میں کب سے لگاتار ہجرت میں ہیں
پھر وہی منظر نظر کے سامنے کیوں آگیا
کربلا، خوں ریزی، کوفہ، تشنگی، صحرا، فرات
جہاں فساد میں اعضائے جسم کٹ کے گرے
اسی زمیں سے ہم لخت لخت اگنے لگے
یہاں فرار کی راہیں تو ہیں مگر مسدود
کہاں کو جائے کوئی کائنات سے بچ کر
مذکورہ بالا اشعار فریاد آزر کے شعری مجموعے’خزاں میرا موسم‘اور’قسطوں میں گزرتی زندگی سے‘ماخوذ ہیں جو آج دنیا میں ہر سو پھیلی ایک قوم مسلمان کی ازل سے اب تک کی سیاسی،سماجی،تہذیبی،ثقافتی اور مذہبی تشخص کی کہانی کہہ رہے ہیں۔کربلا کی خوں ریزی،شہر کوفہ کی مکاری اور ان پر کڑی نگاہوں کے پہرے انہیں اکثر فرات اور اپنے پیاس کی شدت سے یاد دلاتے رہتے ہیں۔آزادی کے بعد کے شعرا اور بالخصوص
۸۰کے بعد کے اردو شعرا کے یہاں اقلیتی مخاطبے کا وفوراسی پس منظر میں سمجھاجاسکتاہے۔
ہندوستان میں آزادی کے بعد پاکستان ہجرت کر جانے سے انکاری مسلمانوں کو یہاں کے ایک طبقہ نے اسی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا، جس نگاہ سے وہ پاکستانی مسلمانوں کو دیکھاکرتا ہے۔ لہٰذا یہاں کے مسلمانوں کو خود کے اقلیت میں ہونے کااحساس شدت اختیار کرتاچلاگیا۔ سیاسی،سماجی،تہذیبی اور ثقافتی نیز اقتصادی میدان میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتی طبقے میں بھی ا حساس کمتری پیدا ہو گئی اور اس طبقے کے فکشن اور شاعری حتیٰ کہ غزل میں بھی اقلیت و اکثریت جیسے جوڑ ے دار ضدین میں تبدیل ہو گئے۔ ادب کی ایک بڑی تحریک ترقی پسندی اور مارکسی آئیڈیولوجی کی ہزار دہائیاں دینے کے بعد بھی ہندوستان میں غیر مذہبی ذات پات سے عاری لبرل معاشرہ قائم نہ ہوسکا اور تیزی سے ہندوستانی سیاست نے علیحدگی پسندی، ذات پات کی سیاست اور مذہبی جنون کو فروغ دیا۔سیاست کے لیے اس ملک کی بڑی اقلیت مسلمان ووٹ بینک سے زیادہ کچھ ثابت نہ ہو سکے اور بدلتے وقت کے ساتھ مسلمانوں میں احساس کمتری کے ساتھ احساس محرومی دن دونی رات چوگنی بڑھتی چلی گئی۔بقول آزر:
کچھ بھی کہہ دیتا ہے وہ گزرے دنوں کے نام پر
آج ماضی کا بھی سینہ چاک ہونا چاہئے
مدتوں سے مرا ہوا ہوں میں
مجھ کو پھر ایک بار زندہ کر
ایسا لگتا ہے کہ فریاد آزر نے اپنی شاعری کو اقلیت کتھا میں تبدیل کر دیاہے۔پہلے شعرمیں ’وہ‘بتانے کی ضرورت نہیں کہ اکثریتی جبر ہے۔اقلیت کے اندر پل رہے غم و غصہ اور خوف کی نفسیات اس شعر میں ماضی کا سینہ چاک کرنے جیسے فقرے سے ہی ظاہرہوجاتاہے۔ ماضی اس شعر میں کسی خاص فرقے کے لیے رقیب کے طور پر استعمال ہوا ہے جس کی وجہ سے ایک خاص قوم کے پیچھے مصائب کے بھوت پڑ گئے ہیں۔اس کی وجہ آزر کے نزدیک یہ ہے کہ:
ہمارا حال ماضی کا پتہ دیتا نہیں یکسر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری عظمت رفتہ پہ کس کو اعتبار آئے
جدیدیت کے رجحان کے تحت تنہائی اور ذات کے کرب نیز زندگی کی بے معنویت جیسے منفی قدریں شعر و ادب میں1960تا1975قارئین کو جس حد تک بھی اپنے دردکا درماں معلوم ہو ئی اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ وجودیت کے فلسفے پر گہری نگاہ رکھتے تھے(جیسا کہ مغرب کے قارئین نے اسے اپنے مسائل کی رو سے اسے اپنے ذہن کا حصہ بنایاتھا)اس نوع کے ادب سے ان کی تھوڑی سی دلچسپی ہندوستانی سیاست کے زیر اثر(اس طبقے میں جو اردو جانتا تھا)ان میں سیاسی طور پر یتیم قوم ہونے کے شدید احساس نے پیدا کی تھی۔گویا جدیدیت اقلیتی احساس کمتری جیسے مرض کا علاج نہیں تھی بلکہ یہ فقط ان کے زخموں کو سہلانے کا کام کر رہی تھی۔بعد کے ادوار میں یعنی
۸۰کے بعد اردو شعر و ادب میں ہندوستانی سیاست کی پیدا کردہ اقلیتی و اکثریتی مخاطبے کے اظہارنے شعر و ادب میں مرکزیت حاصل کر لی۔ ذات پات کی سیاست،علیحدگی پسندی کی تحریکوں کے شور،عام آدمی کی بے روزگاری،اپنے عقیدے اور اپنی ثقافت کے تحفظ کے جذبے کا فروغ اور ان جیسے اور بھی مسائل جیسے ماحولیاتی آلودگی،زبان کی سیاست وغیرہ جیسے مسائل۸۰کے بعد کے شعر و ادب کی فکر مندی قرار پائے۔ردو غزل نے بھی اپنی شعریات کی شرطوں پر نئے مضامین اور سابقہ جملہ غزلیہ اسالیب کو اپنائے ہوئے غزل کی زبان کو حتی الامکان اپنے عہد کے روزمرہ کے قریب کیا۔اس عہد کی غزل کے اختصاص کو متعین کرنے میں کچھ جدیدیت کے شعرا کے ساتھ ساتھ جن شعرا نے اس دور کے بعد مابعد جدید غزل کی منفرد آواز کو وقار بخشا ان میں فرحت احساس،منظور ہاشمی،اسعد بدایونی،عنبر بہرائچی،منور رانا،انیس انصاری،اظہر عنایتی،عبد الاحد ساز،شارق عدیل،مہتاب حیدر نقوی،راشد انور راشد،شین کاف نظام،کرشن کمار طور،سلیم انصاری،شاہد کلیم،پروین کمار اشک،عشرت ظفر،عین طابش،جمال اویسی،خالد محمود،شہپر رسول،عذرا پروین،طارق نعیم،راشد طراز،ملک زادہ جاوید،شہباز ندیم ضیائی،عالم خورشید،خال عبادی،کوثر مظہری،مشتاق صدف،اقبال اشہر، خورشید اکبر،رئیس الدین رئیس،رسول ساقی،ابراہیم اشک اور بھی کچھ شعرا کے نام لیے جا سکتے ہیں جن میں فریاد آزرنے خود کو منفرد رنگ کی شاعری پیش کرنے میں کسی حد تک کامیاب نظر آتے ہیں۔
فریاد آزر نے ماقبل شاعر اقبال کے مخاطبے کو ہم عصر سیاق اور اپنی طرح کی زبان میں پیش کیا ہے یعنی اپنے مذہب،قوم اور اپنی ثقافت کی زبوں حالی کا ماتم کرنے کے بجائے اس پر غور کرنے کی طرف قاری کی توجہ مبذول کی ہے۔لیکن اقبال کے یہاں اقلیتی مخاطبہ نہیں ہے۔آزرنے اقلیتی مخاطبہ اورمسلمانوں کی پسماندگی اور عالمی سطح پر ان پر اور ان کے خلاف کی جانے والی سیاست پر آنسو بہانے کے بجائے ان میں حوصلہ پیدا کیا ہے اور ان مسائل کا تجزیہ کیا ہے ہاں اقبال وہاں یاد آتے ہیں جہاں جہاں آزر نے مسلمانوں کے شاندار ماضی کی واپسی کی تمنا کی ہے لیکن اس احساس کے ساتھ کہ :
کچھ تو ہوگا حال سے ماضی میں ہجرت کا سبب ۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں ہی بس یادوں کی چادر تانتا کوئی نہیں
وہ شخص آج بھی ماضی سے ایسا الجھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اس کے پاؤں ہیں جنت میں، سر جہنم میں
یعنی ماضی سے لگاتار رشتہ بنائے رکھنے کا رجحان آزر اور ان کے معاصرین میں اکثر و بیشتر نظر آتاہے اور یہیں پر اقبال کی یاد تازہ ہوتی ہے۔فریاد آزر نے اپنی شاعری میں کوڈ کے طور پر کربلا اور اس کے متعلقات صحرا وغیرہ کا وافر مقدار میں استعمال کیا ہے اور یہ بھی کہ ماضی کی شاندار روایتوں کو یاد کرنے اور یاد دلانے کا ایک فنی حربہ ثابت ہواہے۔ اس کے علاوہ فریاد آزر کی غزلوں میں عشقیہ رموز اور اس کی تخلیقی و تہذیبی رنگ کی پیش کش کا فنی انداز و اسلوب بھی نظر آتاہے لیکن فریاد آزر کی شاعری کی سب سے بڑی فکر مندی سبز آدمی کی تلاش ہے جو بیک وقت قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی حکومت ،ان کی زندگی،مذہبی اسلوب،انسانیت پسندی کی معراج اور انسانیت نوازی کے اس سنہرے دور کے آدمی کی واپسی کاساختیہ معلوم ہوتاہے۔ساتھ ہی سبز آدمی کی اس تلاش کے عقب میں وہ سوچ بھی فنی طریقے سے بلند ہوتی ہے جسے ہم سبز انقلاب(Green Revolution)کہتے ہیں۔آزرکے غزلیہ متن کا ایک بڑا حصہ ماحولیاتی آلودگی سے دنیا کیونکر بربادی کے دہانے پر ہے اس نوع کی فکر مندی اور انتباہ پر مبنی ہے۔
آزر کے اب تک تین شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔پہلا مجموعہ ’خزاں میرا موسم‘(1996)دوسرا مجموعہ’قسطوں میں گزرتی زندگی‘(2005)تیسرا مجموعہ’کچھ دن گلوبل گاؤں میں‘(2009)اپنے عنوان سے ہی مقصدی شاعری یا مسائل پر مبنی شاعری کا پتہ دیتاہے۔’خزاں میرا موسم‘ کا میرافسانہ مسلمان قوم ہے جس پر خزاں یعنی زوال کا عرصہ صدیوں سے طاری ہے۔مجموعے کا عنوان اسی امر کا کنایہ معلوم ہوتاہے۔دوسرا مجموعہ ہندوستان ہی کیاپوری دنیا میں تجارت کے لیے قرض ،تعلیم کے لیے قرض،گھرخریدنے اور بنانے کے لیے قرض حتیٰ کہ موٹر خریدنے اور ٹی وی اور فریج کے لیے بھی قرض لینے پر مجبور آج کا آدمی اور نئے ساہوکاروں کی چکی میں پستا ہوا عام آدمی کے المناک انجام کا کوڈ معلوم ہوتاہے۔تیسرا مجموعہ ’کچھ دن گلوبل گاؤں‘ میں جو ان کے دو سابقہ مجموعوں کا انتخاب ہے،شاعر کی اپنی ہی شاعری کی قرات کی ایک صورت معلوم ہوتاہے۔یعنی یہ سیدھے گلوبلائزیشن پر طنز ہے مگر اس ایقان کے ساتھ عام آدمی اس سلوگن سے کچھ ہی دنوں کے لیے متاثر ہوا ہے۔
مجھے اب اور سیاروں پہ لے چل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں گلوبل گاؤں سے اکتا گیا ہوں
ذکر یہ کیاجارہاتھا کہ ان کی شاعری میں سبز آدمی کی اساطیر کا ایک سیاق بلکہ زیادہ تر سیاق’مرد مومن‘یا اسلام کا پسندیدہ رنگ سبز ہے جو شانتی اور امن کی علامت ہے۔اگر ہم سبز آدمی سے متعلق مباحث کی اساطیر کا مطالعہ کیاجائے تو یہ منکشف ہوتا ہے کہ وہ آدمی جس کی تصیور پیڑ کے پتوں کی ہےئت میں بنائی گئی ہو۔اب ذرا اس خیال سے ملتی جلتی ایک صورت آزر کے مندرجہ ذیل شعر میں ملاحظہ فرمائیں:
خزاں نصیبی کا بوڑھا شجر بھی خوش ہے بہت ۔۔۔۔۔۔ کہ برگ شاخوں پہ کچھ نیک بخت اگنے لگے
شعر ی کردار ماحول دوست ہے۔ سوکھے درخت کو بوڑھا شجر کہا ہے۔یہ بوڑھا شجراپنی ہی شاخوں پہ کچھ پتے اگتے دیکھ کو خوش ہے لیکن برگ کو نیک بخت قرار دینے سے صاف اندازہ ہوجاتا ہے کہ اسی طرح ہمارے معاشرے کے بزرگ جب اپنے نو نہالوں میں اچھے گن دیکھتے ہیں تو ان کی خوشی کا اندازہ لگانا مشکل ہوتاہے۔شعر پڑھتے ہی آدمی کی وہ تصویر سامنے آتی ہے جس کی تصویر پیڑ کے پتوں کی ہےئت میں بنائی گئی ہو ۔اشارہ اس جانب ہے کہ فطرت اور انسان دوہے ہی نہیں۔راشٹریہ سہارا اخبار کے ایک کالم’’مسلمانوں کا عالمی منظرنامہ‘‘میں واشنگٹن کے مسلمانوں کے حوالے سے سہارا گروپ ایڈیٹر سید فیصل علی نے ایک دلچسپ معلومات فراہم کی ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ’’
۱۴سوسال پہلے قرآن کریم میں کائنات کے ہر راز کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔ماحولیات کی تباہی ایک خطرناک عمل ہے ان نظریات کے تناظر میں زمین کے تحفظ اور اسلام کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہوتا ہے۔اس طرح واشنگٹن میں اسلام کے سائنسی نظریات اور انسانیت کی خدمات کے تحت اس کا ایک بلاگhttp:/Dc Green Muslims blogspot.comپر دستیاب ہے۔اسی طرحDc Green Muslims اس بات کو سمجھتا ہے کہ زمین پر آلودگی کے ان اثرات کا معاملہ اسلام کے لیے کوئی نیا نظریہ نہیں ہے۔‘‘(روزنامہ راشٹریہ سہارا،نئی دہلی،30مئی،2014،ص:10مسلمانوں کا عالمی منظر نامہ،سید فیصل علی)
دراصل اسلام کا علامتی نشان’سبز‘ہے جو امن اور شادابی ا ورتروتازگی کی طرف اشارے کرتا ہے جس کا ایک سیاق ماحولیات کے تحفظ میں اس سبز رنگ یعنی ہریالی کا تحفظ اور اس کا فروغ ہے۔فریاد آزر اور اس عہد کے بیشتر شعرا ماحولیات کے تحفظ کا شعور اور ماحول دوست مزاج کی تشکیل پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔فریاد آزر کے متن میں یہ فکر مندی شدت کے ساتھ ظاہر ہوئی ہے جس کا ایک اہم سیاق اساطیر یعنی انسان کا آرکی ٹائپی شعور ہے۔
ان کے معاصرین نے اسے اپنے متن کا بنیادی ساختیہ نہیں بنایاہے جبکہ فریاد آزر نے لفظ سبز کاتواتر کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے نیز اس کی اساطیری اور لاشعوری جہتوں کے اظہار کے ذریعے اپنے متن کو معنی آفریں بنایاہے۔آئیے پہلے خالص ماحولیاتی آلودگی اور اس کے نتیجے میں کائنات پر خطرات کے بادل کیونکر منڈلا رہے ہیں اس سے متعلق ایک شاعر فریاد آزر کے انتباہ کا فنی اظہار ملاحظہ فرمائیں:
درخت اس نے سبھی کاٹ تو دیے لیکن  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرے بدن پہ ابھی میرے سر کا سایہ ہے
ورنہ ہم سانس بھی لینے کو ترس جائیں گے۔۔۔۔۔۔ سطح اوزان کو فضلات سے آزادی دے
وقت سے پہلے نہ آجائے قیامت آزر ۔۔۔۔۔۔ ’’گرین ہاؤس‘‘کو بخارات سے آزادی دے
سبز لمحات سے جب ہوگی ملاقات اس کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود پہ روئے گا بہت عہد مزائیلوں کا
اے زمیں تری کشش کیوں اس قدر کم ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔ دوسرے سیاروں پر ہم آب و دانہ ڈھونڈتے ہیں
میں آسمان پہ پہنچا مگر ستانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرے وجود سے لپٹی زمین کی خوشبو
بار گناہ سے زمیں جس وقت تھک گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر دیکھنا کہ شمس کی جانب لڑھک گئی
زمین کانپنے لگتی ہے ٹھنڈ سے تو فلک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنہری دھوپ کی چادر اتار دیتا ہے
مذکورہ بالااشعار کے خط کشیدہ الفاظ و تراکیب پر غورکرنا لازمی ہے۔سطح اوزون،گرین ہاؤس،سبز ہاتھ،زمین،سبز لمحات،زمین کی خوشبو،سنہری دھوپ وغیرہ یہ کسی امر کا استعارہ نہیں، سفاک حقیقتیں ہیں۔البتہ سبز لمحات،سبز ہاتھ،زمین کی خوشبووغیرہ کو گہرے ماحولیاتی کوڈیا نشان ضرور بنایا گیاہے۔ان اشعار میں فطرت کا لذت آمیز بیان ہے ہی نہیں جیسے کہ بادل محبوب کی زلفیں ہوں،ندی کی لہریں محبوب کی بلکھاہٹ ہو،یہاں فطرت بجائے خود شاعری کا معروض ہے ۔راوی کا ماحولیات سے عشق اور اس کے تحفظ کی فکر مندی اس پر دھیان دینے اور فطرت میں مضمرتحیر اور زندگی کے سر بستہ رازوں سے آگہی حاصل کرنے کے احساس نے ہی ان اشعار کو خلق کیاہے۔یہاں ایک فطرت دوست یا ماحول دوست کردار سامنے آتاہے۔شعر نمبر
۱،۲،۳،۴،۵اور۸کو ممکن ہے ادبیت کی تلاش کرنے والے نقاد شعریت سے خارج قرار دیں لیکن اسے پڑھتے وقت جس قسم کا لمحۂ فکریہ ہمارے اندر پیدا ہوتاہے وہی اس شعر کو ہمارے ذہن سے چپکا دیتاہے اور یہی ان اشعار کے ہونے کا جواز ہے۔یہ اشعار ہمیں ساری دنیا میں ماحولیاتی آلودگی کے سد باب کے لیے چلائی جا رہی تحریکوں سے جوڑتے ہیں۔حتیٰ کہ سید فیصل علی کے مضمون اور واشنگٹن کےGreen Muslimsسے بھی ۔’سبز لمحات‘ اور’ سبز ہاتھ‘ استعاراتی جہت سے زیادہ اساطیری اور لاشعوری آرکی ٹائپی جہت رکھنے والے مرکبات معلوم ہوتے ہیں۔سبز پری اور گلفام کی اساطیر اگر ذہن میں ہے تو آپ بڑی آسانی سے فن کار آزر کے شعر میں زمانے کے بدلنے کے احساس کے ساتھ اساطیر کیونکر معاصر ذہن سے جھانکتی ہے، اس وقت جب ہمعصر صورتحال کی سنگینی اور پیچیدگی کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ایسی گھڑی میں اساطیر ہمارے مسائل کے حل کی طرف ہمارے ذہن کو لے جاتی ہے۔آج ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ زمین رہے گی یا نہیں،اس کی کوئی گارنٹی اب نہیں دی جا سکتی۔یہی وجہ ہے کہ ماحول دوستی کی تشکیل پر شعروادب میں آج توجہ زیادہ دی جا رہی ہے۔پہلے شعر میں اساطیر کی دیوی جن سے گلفام عموماً سیاست نہیں آنے کی وجہ سے ہار جاتے تھے، کی یا ددلاتے ہوئے آج کے دیوؤں کی طرف توجہ مبذول کی گئی ہے۔آج کے دیو آلودگی،نیوکلیر بم،کل کارخانے اور خلا میں ہونے والے ریسرچ کوقرار دیاجاسکتاہے۔سچائی تو یہ ہے کہ گلفام کو یا سبز پری کو پریشان کرنے والے دیو آج کے ان دیوؤں کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔
دوسرے شعر میں گلفام اور سبز پری دونوں اساطیری کردار استعمال کیے گئے ہیں۔اس شعر کا متکلم ماحول دوستی ہے جس نے گلفام کی قسمت چرالی ہے۔یہ دراصل صحت اور خوشحالی کا کنایہ ہے۔سبز پری اسے ہی مل سکتی ہے جو گلفام یعنی ماحول دوست ہو۔سبز پری دراصل متکلم کو’بن‘میں ملے گی۔کیا خوب رعایت ہے۔بن بھی سبز ہی ہوتاہے گویا سارا بن سبز پری ہے۔یعنی سبز پری اور بن دراصل سبز انقلاب کا منبع ہیں۔اشارہ یہ ہے کہ اگر سبز پری یعنی ایک خوشحال انسانی زندگی مطلوب ہے تو اس کے لیے سبز انقلاب یعنی بن کے وجود اور اس کے تحفظ پر ہمیں زور دینا ہوگا۔یہ شعر مقصدی شاعری کا کامیاب نمونہ ہے جس میں تخلیقی نشان پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے لیکن اس کا انتہائی اکہرا اظہار بھی آزر نے کیا ہے۔ملاحظہ فرمائیں:
یہ اور بات کہ سب جنگلوں میں رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر فضاؤں میں آلودگی بہت کم تھی
کوئی قاری یہ سوال کر سکتاہے کہ سبز پری یا لفظ سبز کا ماحولیات سے کیا تعلق ہے؟کیونکہ اس رنگ کا Ripening life پختہ زندگی اور زرخیزی سے تعلق ہے۔اس رنگ کو ارتقا کے نئے اسلوب اور فوقی فطری یعنی دوسری دنیا کا کوڈ بھی سمجھا جاتاہے مزید برآں اسے حقیقی دنیا کی توسیع کی علامت بھی قرار دیاگیاہے۔آئیے اب آزر کے یہاں اس نوع کے چند اشعار پر ایک بار پھر نگاہ ڈالیں:
نئی رتوں نے ہوا کی رو سے نہ جانے کیا ساز باز کر لی ۔۔ کہ سبز صدیوں سے گونجتی آرہی ندائے اذان بھی چپ
سارے منظر ایک پس منظر میں گم ہوتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سبز لمحوں کا سنہرا کارواں جلتا ہوا
جسم سے باہر سنہرے موسموں کا سبز لمس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روح کے اندر کوئی آتش فشاں جلتا ہوا
ہوائے شفقت چھری بھی والد سے چھین لیتی ۔۔۔۔۔۔ پہ سبز موسم کے ایک بیٹے کی ضد عجب تھی
’سبز لمحات‘سے مراد اسلام کی وہ امن پسند صدیاں ہو سکتی جس نے عورت،پیڑ،بوڑھا اور بچوں کے لیے انوکھی انسانیت پسند آئیڈیولوجی کو جنم دیاتھا۔’سبز ہاتھ‘انہیں کرداروں کا کوڈ معلوم ہوتاہے جنہوں نے اس آئیڈیولوجی کے نفاذ میں حصہ لیا حتیٰ کہ اپنے ملک او حکومت کے جھنڈے پر سبز رنگ کو ہی جگہ دی اور ایسی صحرائی ثقافت کی تشکیل ہوئی جہاں فطرت دوستی کو مرکز میں رکھاگیاتھا۔آزر کے یہاں زمین یعنی دھرتی\'GIA\'ْؒ سے متعلق اشعار میں بھی یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس زمین پرپھر اسی طرح ہریالی چھائے گی جس طرح کہ جنگلوں میں ہوتاہے۔زمین کی کشش کے ختم ہونے کے ملال کے ساتھ زمین کی خوشبو یعنی اس سے انسان کے لاشعور ی رشتے کی طرف توجہ منعطف کر کے زمین کے تحفظ کے جذبے کو ابھارا گیاہے۔فریاد آزر کے یہاں ماحول دوستی اور فطرت کے تحفظ کے حوالے سے اور بھی اہم اور قابل غور اشعار ان کے شعری مجموعوں میں آپ کو ملیں گے طوالت کے خوف سے کچھ ہی اشعار پر یہاں گفتگو کی گئی ہے۔آپ نے دیکھا کہ ان کے یہاں وافر مقدار میں سبز لفظ کا استعمال کیاگیاہے۔مغرب میںLady Raglanنے سبز آدمی کی اصطلاح 1939میں استعمال کی تھی۔سبز آدمی کے بال اور داڑھی پتے نما ہوتی ہے۔کبھی سر پوری طرح پتوں سے ڈھکا ہوتاہے اسی طرح فنتاسیوں میں سبز آدمی کچھ اسی طرح کے حلیے میں نظر آتے ہیں۔ہندوستان کے جین مندروں میں اس نوع کی تصویریں کھدائی کے بعد ملی ہیں حتیٰ کہ عراق میں بھی جن کے لباس اور گہنے حتیٰ کہ سر پر نباتات ہی نباتات دیکھے جا سکتے ہیں۔
Tom Cheethan(جو اسلامی تصوف کابڑا اسکالر تسلیم کیاجاتا ہے )نے’خضر کو‘سبز آدمی قرار دیاہے۔کچھ لوگ ابن عربی کو سبزآدمی کا تصور دینے والا پہلا اسکالر مانتے ہیں۔ہندوستانی اساطیر میں سبز آدمی کو شیو کی لیلا قرار دیا گیاہے ۔فریاد آزر نے بھی لاشعوری طور پر شیو کے نیلے کنٹھ کا بار بار ذکر کیا ہے:
سبھی کو زہر اپنے حصے کا پڑا پینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی تہذیب نے شاید کوئی شنکر نہیں پایا
زہر کا رنگ اس کے بھی ہو جاتا حیرت سے سفید ۔۔۔۔۔۔۔ گر کبھی نیلا سراپا میرا شنکر دیکھتا
سبز آدمی جسے شیو کی لیلا بھی قراردیاگیاہے آزر نے شیواور اس کے زہر کے حوالے سے کئی اشعار کہے ہیں جس کا سیاق آج کی مصموم فضا ہے جس میں ہر نوع کا زہر گھل چکا ہے اور اس آلودگی کو ہر دور میں شیو ہی ختم کر سکتاہے یعنی سبز کو برقرار رکھنے کے لیے شیو کو زہر پی کرنیلا ہونا پڑتا ہے:
ہزاروں ابرہا لشکر سجا رہے ہیں تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوائے سبز ابابیل ہونے والی ہے
یہ قیامت کی علامت ہے یا کوئی انقلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبز پیڑوں کے ہرے پتے بھی نیلے ہو گئے
گذشتہ دور کی بوباس لے کے آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں رات سبز ہوا سے لپٹ کے روتا رہا
تمام سبز بدن پیڑ بھاگ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں جو شہر کے لوگوں کو میں بلا لوں گا
وہ سبز ہاتھوں میں لے کر کتاب اترے گا ۔۔۔۔۔۔ اب اس زمیں پہ حسیں انقلاب اترے گا
سر سبز موسموں میں ہی مانند برگ خشک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اندھی ہوا کی شہہ پہ بکھرنا پڑا مجھے
دی گئی لا منظری کی سبز آنکھوں کو سزا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان پر موتی رولنے کا جرم عائد ہو گیا
فریادآزر نے جنگل کے امیج کو بار بار قاری کے ذہن میں لانے کی کوشش کی ہے اور استعارے کی شکل میں نہیں خالصتاً ماحولیات کے منبع کے طو پر اسے پیش کیا ہے کیونکہ جنگلوں میں رہنے والے لوگ ہی دراصل صحیح معنوں میں سبز آدمی(Green Man)تھے اور عورتیں سبز پری یا عورت اس لحاظ سے سبز، خوشی،ارتقا اور شگفتگی و شادابی کا کوڈ رہا ہے:
حسین شہر کا منظر اسے بلاتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر وہ شخص ہرے جنگلوں میں کھویا رہا
آگ جنگل میں لگا دیتے ہیں بدمست درخت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے گناہی کی سزا پاتے ہیں پورے معصوم
الغرض سبز لفظ کا استعمال جن اشعار میں آزر نے کیاہے ان میں ایک ایسا راوی یا کردار نظر آتاہے جس کے اپنے کچھ تعصبات ہیں یا تحفظات ہیں۔یہ اقلیتی طبقے کا ایک انقلابی ذہن یا احتجاج پر آمادہ ذہن ہے جس نے سبز لفظ کو عموماً اسلامی روایات یا اسلام کے اصولوں کا کوڈ بنایا ہے۔لہٰذا مذکورہ بالا اشعار میں سبز صدیاں،سبز موسم،ہوائے سبز،سبز ہوا،یہ ساری اردو تراکیب اسلام کے شاندار ماحول دوست انسانیت پسند اصولوں یا آئیڈیولوجی کا کوڈ بن جاتے ہیں۔انہیں اپنی شاعری میں بروئے کار لانے کی ایک وجہ آزر کے نزدیک یہ ہو سکتی ہے کہ شعری کردار سبز پسند یعنی انقلاب کا متلاشی ہے اور اسلام کی آئیڈیولوجی اسے سبز انقلاب کے اہم حوالے کے روپ میں نظر آتی ہے۔اس بہانے ان کی غزلیہ شاعری میں اسلام کی عصری معنیوت کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مثلاً خزاں میرا موسم جو ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے کے مذکورہ بالا اشعار میں ابرہہ کے لشکر کا ذکر،’ ہوائے سبز ‘جو ابابیل ہونے والی ہے کا مژدہ سنانا دراصل ماضی کی اسی شاندار روایت کی واپسی کا سیاق سامنے لاتاہے۔
آزر کے نزدیک سبز پیڑوں کے پتوں کے پیلے ہونے کا مطلب ہے قیامت کے آنے کا اشارہ۔یعنی قیامت نام ہے ماحولیات کی آلودگی کا۔’خزاں میرا موسم‘ کے تیسرے شعر میں سبز ہوا سے لپٹ کے رونے کا ذکر اور آخری شعر میں شہروں کو ماحولیاتی آلودگی کی وجہ قرار دینا یعنی شہر کے لوگ جیسے ہی کہیں کسی گاؤں میں پہنچتے ہیں سبز بدن پیڑ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔کہنے کی یہ سعی کی گئی ہے کہ شہروں کی تشکیل ہی نے ماحولیاتی آلودگی کو جنم دیاہے کیونکہ ترقی کے نام پر ہم جنگلوں کو کاٹ رہے ہیں۔اسی طرح’ قسطوں میں گزرتی زندگی‘ سے ماخوذ اشعار کے پہلے شعر میں کس نوع کے انقلاب کے آنے کا مژدہ سنایا گیا ہے؟ترقی پسند لوگ لال انقلاب کی دہائی دیتے تھے آج کے شاعر کے نزدیک اس سے زیادہ ضروری سبز انقلاب قرار پایا ہے۔دوسرے شعر میں ماحولیاتی پیکروں کو انسان کی اپنی زندگی کی ٹوٹ پھوٹ کا استعارہ بنایاگیاہے۔آخری شعر میں آج کے انسانوں کی محرومی کی وجہ بنجرپن ہے جن کی آنکھیں حسین منظروں کے لیے ترس رہی ہیں۔
سبز لفظ پری سے وابستہ رہاہے۔سبز پری کا عالمی ادب میں بالخصوص اسکاٹ لینڈ کے ادب میں پری کو کنائے کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان رہا ہے۔ہمارے یہاں اندر سبھا میں سبز پری(نسوانی کردار)اور گلفام کا کردار ملتاہے۔فریاد آزر نے بھی سبز پری کو کنائے کے طورپر استعمال کیا ہے۔فریاد آزر نے اسلام کی ایک ایسی خوبی کو اپنے شعری جہان کے ذریعے ہمارے ذہن کا حصہ بنایا ہے جو فی زمانہ دنیا کے ہر ملک اور ہر انسان کی فکر مندی بن گئی ہے یعنی ماحولیاتی آلودگی اور اس کے لیے سبز انقلاب لانے کا جتن کرنا آج کے ہر بیدار مغز انسان کے لیے عبادت کا درجہ اختیار کر گیاہے۔اسلام کی بہت سی خوبیاں ہیں مگر فریاد آزرنے اپنی شاعری میں اسلام کی اس انوکھی خوبی کو سامنے لاکر اسے غزل کی شاعری میں جس خوبی سے شعری صدادقت کا حصہ بنایا ہے اس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔اسلام سبز رنگ کو یونہی پسند نہیں کرتا اس کے عقب میں ماحولیات کے تحفظ کا ایجنڈاکارفرماہے ۔فریاد آزرکی شاعری کا یہ لفظ جو اساطیری استعاریت کی صورت میں ایک اہم ساختیہ بن گیاہے ہماری شعری روایت کا حصہ رہاہے اوراس شعری روایت کا حصہ ہے جس کا راست تعلق اردو سے ہے۔میرا اشارہ فارسی شاعری کی جانب ہے۔خسرو کی غزل سے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
ازیں ہر دو نکو تر رنگ سبز است ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ زیب اختراں ز اورنگ سبز است
(ان دونوں سے بہتر سبز رنگ ہے( آگے گندمی سیاہ رنگ کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ جس سے تاروں کی زینت ہے وہ آسمان بھی سبز ہوتاہے)
برنگ سبز رحمت، ہا سرشت است 235 کہ رنگ سبز پوشان بہشت است
(سبز رنگ میں رحمتیں گوندھ دی گئی ہیں دیکھ لو کہ جنتی لوگوں کا لباس سبز ہوتاہے)
(ظ انصاری،خسرو کا ذہنی سفر،انجمن ترقی اردو ہند،پہلا ایڈیشن(1977)انتخاب کلام مع ترجمہ:مولانا حسن عباس فطرت شاعر پونہ)،ص:17)
فریاد آزرنے اپنی شاعری میں سبز رنگ کی معنویت کو مزید آشکار کرنے کے لیے زندگی کے دوسرے رنگوں کو بھی پیش کیاہے۔نیلا رنگ جو زہر نگل جانے کے بعد نمودار ہوتاہے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سنہرے رنگ کا ذکر اپنے شعروں میں ا س کے اپنے اساطیری سیاق میں کیاہے۔چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
کیا المیہ ہے سنہرے موسموں کے کارواں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سفر میں ہیں، کسی کا ہمسفر کوئی نہیں ہے
سنہرے شہر کی تعلیم تھی بہت دلچسپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ بے حسی بھی وہاں شامل نصاب رہی
سنہرے نازوں میں پل رہی ہیں بہک نہ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا حنا خواہشوں کی بھی دیکھ بھال رکھنا
جب ملا تبدیلئ تاریخ کا موقع اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نام خود اپنا سنہرے اکشروں میں لکھ دیا
جب چاند تارے جگنو سبھی نور کھو چکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مانند آفتاب ابھرنا پڑا مجھے
رفاقتوں کا سنہرا جمال دینا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے عہد کو ماضی سا حال دینا تھا
میں زندگی کا سنہرا نصاب لاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے چہرے سے اچھی کتاب لاؤں گا
لفظ’سنہرا ‘کااستعمال سبز ہی کی طرح تواتر کے ساتھ فریاد آزر نے اپنی غزلوں میں مختلف سیاق و سباق میں کیاہے۔سورج کی اساطیر اور آریائی تصور کے مطابق سورج کے بال سنہرے ہوتے ہیں۔سنہرا لفظ کا تعلق سونا سے بھی ہے۔صبح کی سنہری کرنیں رات کی قربانی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔رات صبح کی بہن ہے جسے سنہرے زیور پہننے کا شوق ہے۔دراصل سوریہ رات یعنی اپنی ماں کا سینہ چاک کر کے یعنی اندھیرے کو کاٹ کر دنیا کوروشن کرتاہے۔ان سنہری کرنوں کے ساتھ سورج دراصل سحر کی تلاش میں صدیوں سے بھٹک رہا ہے اور اس طرح دنیا کو خوشحالی اور سنہری صبحیں عطاکرتا چلاجارہاہے۔دراصل سنہرے رنگ میں پیلے کا ہونا زندگی کی علامت ہے۔اگر اس موقع پر رابرٹ فراسٹ کی مندرجہ ذیل لائنیں بھی ذہن میں رہیں تو آزر کے یہاں مستعمل لفظ ’سنہرے‘اور’سبز‘کے فنی معنیاتی تعلق تک رسائی حاصل کرنے میں اور آسانی ہو جائے گی۔رابرٹ فراسٹ کو سنیے:
\'\'Nature\'s first green is gold,
Her hardest hue to hold
Her early leafs a flower;
But only so and hour;
Nothing gold can stay
(Robert Frost) 
فراسٹ نے کتنی خوبصورتی کے ساتھ سنہرے اور سبز کے وصال کو فطرت کا پہلا سبز قرار دیاہے۔اس کی پہلی پتی کو پھول کہا ہے۔یعنی فطرت کی پہلی سنہری روشنی کی تمنا کر رہاہے جس کی وجہ سے سبز کی زندگی ہے۔اس تناطر میں یہاں آزر کے کم از کم ایک شعر پر نگاہ ڈالنا ضروری معلوم ہوتاہے:
کیا المیہ ہے سنہرے موسموں کے کارواں کا ۔۔۔۔۔۔ سب سفر میں ہیں، کسی کا ہمسفر کوئی نہیں ہے
ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ بالا سنہرے لفظ کی توضیح و تشریح اور سورج کی اساطیر اس شعر کا آر کی ٹائپی نقش ہے جس کا ذکر ابھی کیاگیاہے۔سورج سحر کی تلاش میں نا معلوم زمانوں سے سفر میں ہے۔رات نا معلوم زمانوں سے سورج کو اپنے گربھ میں رکھتی آئی ہے اور سفر میں ہے۔ستارے ،چاند اور خود سحر بھی۔ کیا خوب مصرعہ ہے،’سب سفر میں ہیں کسی کا ہم سفر کوئی نہیں ہے‘۔سحرآتی ہے تو رات چلی جاتی ہے،شام آتی ہے تو دن چھپ جاتاہے۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ شعر میں اس المیہ کو سامنے لاکر شعری کردار نے کیا کہنا چاہاہے۔شاید یہ کہ اشارہ ایک ایسی شاندار قوم اور اس کے کارواں کا پوری دنیا میں پھیلنا ہے جس کی پہچان اجتماعیت تھی۔یعنی آج کے مسلمان جو نماز جمعہ، با جماعت نمازوں،عیدین اور نہ جانے ایسے کتنے ہی موقعوں پر وہ ایک ایسی جماعت کی صورت میں نظر آتے ہیں جن میں احساس اجتماعیت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ دم توڑ چکاہے۔معنی کا ایک اور قرینہ اس شعر سے سامنے آتاہے جو عصر حاضر کے انسانوں میں اپنی ذات کے خول میں بند ہو جانے جیسی منفی قدر کی نشان دہی کرتاہے۔اجتماعی زندگی کا یعنی مل جل کر رہنے کا صدیوں پرانا انسانی وصف آج کے صارفی سماج میں اپنی اپنی ڈفلی اور اپنے اپنے راگ کی صورت میں بکھر گیا ہے۔ 
رنگ سبز اور ماحولیاتی تحفظ آج کی اتنی اہم بحث بن چکی ہے کہ تنقید کا ایک نیا اسکول سبز تنقید(Green Criticism)وجود میں آگئی ہے ۔اردو میں اس حوالے سے راست طور پر پہلا متن فریاد آزر نے ہی خلق کیاہے۔علاوہ ازیں لفظ’خلا‘بھی ان کی شاعری میں بار بار استعمال ہوا ہے جس سے نہ کہ ماحولیات بلکہ ہم عصر زندگی کے تضادات،خطرناکیوں کی نشان دہی میں مدد ملی ہے:
(
۱) کشش تو چاند سے کچھ کم نہیں ہے اس میں بھی ۔۔۔۔ مگر وہ ملتا ہے مجھ سے خلا کے لہجے میں
(
۲) میں تھک چکا ہوں اور آخری صدا میری ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں خلاؤں میں تحلیل ہونے والی ہے
(
۳) عجب جستجو ہے خلاؤں میں بھی زندگی ڈھونڈتا پھر رہا ہوں ۔۔۔۔ سمندر کی لہروں پہ میں نقش دریا دلی ڈھونڈھتا پھر رہا ہوں
(
۴) حصار کائنات سے نکل کے ڈھونڈتے تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر خلا سے آگے کوئی راستہ نہیں ملا
(خزاں میرا موسم)
(
۱) تخیلات میں پھر تاج و تخت اگنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمیں ہٹی تو خلا میں درخت اگنے لگے
(
۲) خلاؤں میں کبھی پھرتا ہوں آزر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی میں چاند پر دیکھا گیا ہوں
(
۳) خلاؤں میں بھی شر پھیلا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرندہ کتنا پر پھیلا رہا ہے
(قسطوں میں گزرتی زندگی)
’خلا‘کا استعمال بطور ماحولیاتی فکر مندی خزاں میرا موسم کے شعر نمبر(
۲)(۳)میں ہوا ہے او ر یہ تو اب واضح ہو چکا ہے کہ آج کاانسان بارودکی ڈھیر پر بیٹھا ہوا ہے اور آخری سانسیں گن رہاہے۔تباہی کے بعد وہ خلا میں آواز کی صورت محفوظ رہ جائے گا یہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔انسان کی خواہشیں لا محتتم ہیں ۔زمین تا خلا وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ ڈھونڈنے میں مصروف ہے۔تیسرے شعر میں طنز ہے اور وہ یہ کہ انسان کی یہ کون سی تحقیق ہے کہ وہ یہ بھی نہیں سمجھ پاتا کہ بعض اشیا کی تحقیق اسے بجائے فائدے کے نقصان پہنچائے گی اس خیال کو شعر کے دوسرے مصرعے میں سمندر کی لہروں پہ نقش دریا دلی ڈھونڈھنے جیسے واقعے سے واضح کیاگیاہے۔یہاں دریادلی اور لہروں میں مناسبت قابل داد ہے۔قسطوں میں گزرتی زندگی کے شعر(۱)میں انسان کی ہوسناکی اور خواہش بے جا کا مضمون قلم بند ہوا ہے دوسرے شعر میں بھی انسان کی لگاتار کوششوں اور فطرت کو مسخر کرنے کا سیاق ابھارا گیا ہے اور تیسرے شعر میں بھی انسان کی اسی ہوسناکی اور بے جاترقی اور اس نام پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔اب تو خلا کو آلودہ کرنے میں سائنس دانوں نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔یہاں ٹھہر کر ایک اور اہم پہلو پر غور کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ آزر نے فطرت کے ایک وسیع و عریض منظر’صحرا‘کو اپنی شاعری کا اہم ساختیہ بنایاہے۔صحرا کی خوبی یہ ہے کہ اس پر ثقافت کی کائی بہت جلد نہیں جمتی۔یہ زمانوں تک رہنے کے قابل نہیں ہوتا۔ماحولیاتی مفکرین اسے خالص فطرت کے ذیل میں رکھتے ہیں لیکن آج یہ بھی گلوبل وارمنگ سے اثر انداز ہو چکاہے۔ایسا فکشن کہ جس میں زندگی کے گہرے رازوں کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہو یا ایسی شاعری جس میں تقدیر کے المیے کو پیش کیاگیا ہو صحراوہاں اظہار کا ایک گہرا ساختہ بن جاتاہے۔دنیا کے نبی،اوتار عبادت کے لیے صحرا میں گئے اور انہیں زندگی کے راز سر بستہ سے آگہی حاصل ہوئی۔اس امر کا احساس اقبال کو بھی تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ ’’
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا بندۂ صحرائی یا مرد کہستانی
اقبال کے اس شعر کا مطلب اتنا ہی ہے کہ صحرا ئی انسان ہی فطرت کے مقاصد کی سمجھ رکھتے ہیں۔اس لفظ کا ایک سیاق اسلام اور اس کے ذریعے دنیا میں قائم ہونے والی ثقافت سے متعلق تلازمہ بھی ہے:
اب تو وحشت بھی بدلنے لگی منزل اپنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر کی اور بڑھے آتے ہیں صحراؤں کے لوگ
صحرا سے العطش کی صدا آرہی ہے پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے پھر
اب بھی ہیں صحرا کی آنکھوں سے یوں ہی آنسو رواں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نام ان کو دیے ہیں وقت نے دجلہ فرات
(قسطوں میں گزرتی زندگی)
پہلے شعر میں وحشت اور صحرا ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔ما بعد جدید غزل میں شہر اور دیہات کا تقابل اظہر من الشمس ہے۔ما بعد جدید غزل کا راوی شہر سے نفریں اور گاؤں کے ختم ہونے پر حد درجہ فکر مند نظر آتاہے۔اس امر کا ذکر اوپر کیاگیاہے کہ کیونکر اب صحرا بھی اپنی فطرت بدلنے لگا ہے۔اس بات کی طرف فنی طریقے سے فریاد آزر نے بھی اشارہ کیاہے۔دوسرے اور تیسرے شعر میں ماضی کے لوٹ آنے کی طرف صحرا کے حوالے سے ایقان کا اظہار کیاگیاہے۔ہم اگر فریاد آزر کا غزلیہ متن پڑھیں اور اب تک کی گفتگو کو دھیان میں رکھیں تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ فریاد آزر نے ما قبل بیانیہ یعنی اساطیر کی رد تشکیل کا متن بنانے میں اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ دلچسپی لی ہے۔ان کے زیادہ تر اساطیر اسلامی ہیں۔ظاہر ہے کہ انہوں نے اس اساطیر کے ذریعے حال کے تضادات کو پرانے اور نئے کے فرق کو واضح کیاہے۔چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
نوح ؑ کی امت ہے کاغذ کی سبک کشتی میں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواہشوں کا ایک بحر بیکراں جلتا ہوا
ذرا سی دیر میں دیوار قہقہہ آزرؔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فصیل گریہ میں تبدیل ہونے والی ہے
کوئی ہابیل صفت شخص نہ بچنے پائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے اعلان مرے شہر کے قابیلوں کا
عجیب طور کی مجھ کو سزا سنائی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدن کے نیزے پہ سر رکھ دیا گیا اپنا
زمین پھراسی مرکز پہ جلد آ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندائے کن میں سنوں ابتدا کے لہجے میں 
پرندے لوہے کے اب کنکری گرانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب ہم پہ ہے کیوں ابرہا کے لہجے میں
کیا سویمبر رچائے دھنک بک گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج سیتا کی خاطر جنک بک گئی
کس نے دل میں آگ لگائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون آیا لنکا کے اندر
طوفان نوح اور نوح کے ذریعے بنائی گئی کشتی کا قصہ کسے معلوم نہیں۔حددرجہ گہرا شعر ہے۔طوفان نوح میں نوح کی کشتی رواں دواں ہے۔اس میں تب دنیا کے جانداروں کے ہر جوڑے سنبھال کر رکھے گئے تھے ۔آج کی دنیا ہی طوفان نوح بن گئی ہے اور کشتی میں خواہشوں کا طوفان لہریں لے رہاہے۔اشارہ انسان کی بے لگام خواہشوں کی طرف کیاگیاہے جس کی وجہ سے ایک بار پھر دنیا تباہی کے دہانے پر ہے لیکن اس بار نہ نوح کی امت سبک کشتی میں ہے اور نہ امت کی فکر کرنے والے نوح۔اسی طرح دوسرے شعر میں دیوار قہقہہ کی اساطیر کے سہارے زندگی میں اچانک ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔تیسرے شعر میں ہابیل جسے قابیل نے مار دیاتھا اور جسے دفن کرنے کا طریقہ فطرت (کوا)نے سکھایا تھا دراصل قابیل کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس نے ہابیل کا قتل کیاہے۔آج کا قابیل سب کچھ جانتے ہوئے نہ کہ اپنے بھائیوں کو مار رہاہے بلکہ وہ ہابیل صفت کوئی انسان اس دھرتی پر نہ رہے اس فکر میں بھی مبتلا ہے۔ اسی طرح سے ندائے کن ،بدن کے نیزے، لوہے کی کنکری کا گرانا،سویمبر،سیتا ،جنک اور آخری شعر جس کا سیاق اردو غزل کا اہم ایجنڈا عشق ہے اس ناقابل بیان اور ناقابل تفہیم جذبے کی تصویر کشی کے لیے جس طرح سے اساطیر کو آرکی ٹائیپی پیکر میں بدلا گیا ہے اس کی داد جتنی دی جائے کم ہے۔اس شعر میں غزل کا روایتی رنگ سر چڑھ کر بولتا نظر آتاہے۔تجاہل عارفانہ نے کہ’کون آیا لنکا کے اندر235اور کس نے دل میں آگ لگائی‘کمال کا شعری اظہار ہے۔لنکا کو دل کہنا جدت کی عمدہ مثال ہے۔دراصل دل لنکا ہے نہیں کیونکہ لنکا تو راون کی نگری ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ لنکا کی یاد آگئی ہے کیونکہ محبوب جیسے ہی دل میں آیا ایسی آگ لگی کہ دنیا ہی بدل گئی۔ویسی ہی آگ جیسی ہنومان نے لنکا میں سیتا کی خاطر لگائی تھی۔اس شعر پر جتنی بھی گفتگو کی جائے کم ہے۔آئیے فریاد آزرکے کچھ ایسے اشعار پر نظر ڈالیں جن کی تعداد قابل ذکر ہے اور جن میں معنی آفرینی اور تہہ داری کوٹ کوٹ کر بھری گئی ہے یا جسے قاری اپنے اپنے طور پر مختلف النوع انداز سے معنی اخذ کرنے میں خود کو لطف محسوس کرتاہے۔ایسے اشعار اور ان کے مضامین ہر نوع کے ہیں۔آئیے کچھ عشق کے تہذیبی و تخلیقی رنگ میں ڈوبے اشعار اور کچھ غم زمانہ کو سمجھنے اور سمجھانے والے گہرے اشعار پر ایک نگاہ ڈالیں :
ہزار چاہا کوئی اور صنف اپناؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شاعری کو غزل سے جدا نہ کر پایا
اپنے ہی معنی کا لفظوں پر اثر کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مستند کتنے بھی ہوں اب معتبر کوئی نہیں ہے
مجاز کا سنہرا حسن چھا گیا نگاہ پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھلی جو آنکھ جلوۂ شہود ختم ہو گیا
یہاں فرار کی راہیں تو ہیں مسدود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں کو جائے کوئی کائنات سے بچ کر
ہوا وجود مٹا دے گی ایک لمحے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کس نے پھوس کے گھر میں دیا جلایا ہے
تنفس اک مسلسل خود کشی کا نام ہے شاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جتنا جیتا ہوں اتنی نفی محسوس ہوتی ہے
یوں تو محفوظ رہے ذہن میں لاکھوں الفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد آیا نہیں د روازہ کھلا کس سے تھا
کچھ تو پانی کی لکیروں پہ لکھا ہے، کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی آگ ہے مٹی ہے، ہوا ہے، کیا ہے؟
چلے تو فاصلہ طے ہو نہ پایا لمحوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکے تو پانو سے آگے نکل گئی صدیاں
وہ شاید خواب میں دوبارہ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اک بار پھر سونا پڑے گا
پہلے شعر پر نظریاتی بحث گھنٹوں چھڑ سکتی ہے کہ کیوں ہزار کوششوں کے بعد ایک شاعر یا ایک قاری غزل ہی پسند کرتاہے۔دوسرا شعر ساختیاتی اور پس ساختیاتی تناظر میں لفظ و معنی کی تھیوری کی طولانی بحث کا متقاضی ہے۔شاعر کو علم ہے کہ کسی لفظ کے اس کے اپنے معنی ہوتے ہی نہیں کیونکہ ہر لفظ کے معنی ایک لفظ ہے۔تیسرا شعر وجود اور شہود کی صدیوں پرانی بحث کو نئے طریقے سے قاری کے ذہن میں لایاگیاہے۔وجود اور شہود کا فرق تبھی تک ہے جب تک سالک وجود کی منزلوں میں یعنی مجاز کے سنہرے حسن کے اثر میں ہوتاہے۔جیسے ہی سالک مسلوک سے جا ملتاہے جلوۂ شہود ختم ہوجاتاہے۔یعنی بندے اور خدا کا فرق اعتباری ہے حقیقی نہیں۔
چوتھا شعر پڑھتے ہی ذوق کی یاد آتی ہے۔کہتے ہیں کہ’اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے235مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے‘لیکن آزر نے اس شعر میں ایک ایسے کردار کو پیش کیاہے جس کا تجربہ یہ ہے کہ دنیا ایک ایسا قید خانہ ہے جس میں انسان چاہے نہ چاہے رہنا ہی پڑتاہے۔کائنات سے بچنے کے لیے کسی پانچویں سمت کی تلاش بے سود ہے۔کہا یہ ہے کہ دنیا سے نفرت اس سے بھاگنے کی کوشش بے سود ہے۔ہر حال میں دنیا کرنی پڑتی ہے۔آٹھویں شعر کو پڑھ کر بیک وقت غالب اور فانی یاد آتے ہیں۔فانی کے نزدیک زندگی دیوانے کا خواب ہے،آزر کے نزدیک زندگی کے بارے میں اگر کچھ کسی نے بیان دیاہے یا لکھا ہے کہ زندگی کیاہے تو افسوس کہ اس نے کاغذ کت بجائے یہ باتیں پانی پر لکھی ہیں۔غور کیجئے کہ بھلا پانی پر تحریر کی گئی کسی حقیقت کو بھلا کون پڑھ سکتاہے۔دوسرے مصرعے میں سوال کی تکرار زندگی کی بے معنویت کی طرف نہیں ہمیں زندگی کی گہرائیوں کی طرف لے جاتی ہے۔چھٹے شعر میں تنفس کو یعنی آتی جاتی سانسوں کو خودکشی کا نام دینا بلیغ استعارہ ہے۔کیونکہ زندگی کی ہر سانس ہمیں موت کی طرف لے جاتی ہے۔انسان ہر لمحہ نفی کے غار میں لڑھکتا ہوا خود کو محسوس کرتاہے۔ساتویں شعر کو پڑھ کر علی بابا اور مرجینا کی اساطیری کہانی کی یاد آتی ہے۔جسے اس شعر میں گوندھ کر پیش کیاگیاہے۔یہ ایک عجیب و غریب شعر ہے جس کی تعبیر کی کوشش کسی ایک طور پر ممکن نہیں۔شعر میں لفظ دروازہ آیاہے۔کہانی میں یہ خزانے کا دروازہ تھا جسے کھولنے کے لیے ہر شخص کو کھل جا سم سم کہنا پڑتا تھا۔کہانی کے کردار کو اس لفظ کے بھول جانے کی وجہ سے کیا کیا پریشانیاں ہوئیں تھیں بتانے کی ضرورت نہیں۔اس اساطیری کہانی کی رد تشکیل کرتے ہوئے شاید یہ کہنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم دنیا میں آتے ہیں اور یہاں کے طرح طرح کے عیش و آرام میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں کہاں جانا ہے۔شاید ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہم وہ ایک لفظ بھول جاتے ہیں۔وہ لفظ دراصل دنیا کا بنانے والا ہوسکتاہے ،انسان کا ضمیر ہوسکتاہے،انسان کی انسانیت ہو سکتی ہے۔یہ اور اس طرح کی اور بھی امور اس شعر کے حوالے سے قارئین سامنے لا سکتے ہیں۔طوالت کے خوف سے آخری شعرپر اپنی گفتگو ختم کرنے کی اجازت چاہوں گا۔جس میں وہ شاید خواب میں دوبارہ آئے کے’وہ‘کو ڈی کوڈ کرنا ضروری ہے اور’ مجھے ایک بار پھر سونا پڑے گا‘میں فعل’سونا‘کو سونا پر غور کرنا ازحد ضروری ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ غزل کا بنیادی ایجنڈاعشق و محبت اور احترام آدمی اور روحانی ہم رشتگی ہے۔’وہ‘ واحد غائب کون ہے؟ظاہر سی بات ہے کہ محبوب ہے۔چونکہ ہجر کی راتوں میں محبوب سے ملنے کا وسیلہ خواب ہوتاہے لیکن کبھی کبھی اس خواب کی وجہ سے انسان جاگ بھی جاتاہے۔یعنی ہجر کا مارا عاشق حقیقت کے بجائے خواب میں ہی جینا زیادہ پسند کرتاہے۔’مجھے ایک بار پھر سونا پڑے‘مصرعے کے ذریعے یہی بات کہنے کی کوشش کی گئی ہے۔غزل کی اشاریت اور رمزیت اور اس میں کچھ کھو جانے اور کچھ پالینے کا انداز اشعار میں لطیف ایمائیت پیدا کر دیتی ہے۔
شعر میں معنی کے اور بھی قرینے ڈھونڈے جا سکتے ہیں اور یہی زندہ اور تہہ دار اشعار کی پہچان ہوتی ہے۔
اخیر میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ فریاد آزرنے اپنی شاعری میں رنگوں کے استعارے کے ذریعے ہم عصر زندگی کے مختلف رنگوں کو پیش کیاہے۔اساطیری استعاریت کے ذریعے ماضی اور حالی کی کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی سعی کی ہے۔ان کے عشقیہ رنگ کی شاعری میں زمینی اور مقامی رنگ کو نمایاں مقام عطا کیاگیاہے۔معاصر ثقافتی صورتحال اور عام آدمی کا شہر میں کیسا برا حال ہوگیاہے اس دکھ کو زبان دینے کی کوشش کی گئی ہے اور فطری انسان کی معصومیت کی تلاش کے جذبے نے فی زمانہ ماحولیاتی آلودگی کو انہیں ہم عصرزندگی کا سب سے بڑا خطرہ تصور کرنے پر مجبور کر دیاہے۔ان کی غزلیہ شاعری میں بارود کی ڈھیر پر بیٹھی اس دنیا کے تحفظ کے لیے شانتی اور امن کے پجاری یعنی ایک ایسی سبز آدمی کی تلاش پر حد درجہ زور دیاگیاہے۔اردو میں مقصدی شاعری کرنے والے شعرا ہمیشہ ناقدین کے نشانے پر رہے ہیں۔آزر کی شاعری کی ایک اہم موتیف اپنے مذہب اور قوم کی زبوں حالی کا تجزیہ ہے۔اس لحاظ سے آزر کی شاعری بھی مقصدی شاعری کے خانے میں چلی جاتی ہے لیکن یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ فی زمانہ جس نوع کی شاعری ہورہی ہے اس میں فریاد آزر ایک اہم غزل گو شاعر کی حیثیت سے
۸۰
کے بعد کی غزلیہ شاعری میں ناقابل فراموش شاعر کی حیثیت سے زبان زد خاص و عام بن چکے ہیں۔

اتوار، 9 فروری، 2014

فریاد آزر: شگفتہ خیال شاعر

فریاد آزر: شگفتہ خیال شاعر
عمران عظیم


بنارس کی سرزمین جہاں صنعت و حرفت اور سیاحت کے سبب عالم گیر شہرت کی حامل ہے، وہاں اس کی ثقافتی، تہذیبی نیز ادبی سرگرمیوں کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے۔ اس سرزمین پر بین الاقوامی اہمیت کی حامل شخصیات نے جنم لیا اور اپنے اپنے کمالات و جوہر کا لوہا بھی منوایا۔ موسیقی اور رقص جیسے فنون لطیفہ کے ضمن میں بسم اﷲ خاں، گرجادیوی، پنڈت کشن مہاراج، ستارہ دیوی اور ایم راجن کا تعلق بھی اسی شہر سے رہا ہے۔ ہندو مذہب کے علم برداروں نے ویدانت، فلسفہ اور بھکتی کا گیان بھی یہیں پر حاصل کیا۔ کبیر داس، پریم چند، غالب، فراق اور قرۃ العین حیدر نے بھی اس سرزمین سے کسی نہ کسی صورت سے تعلق رکھا۔ نامور ڈرامہ نگار آغاحشر بھی بنارس میں آکر بس گئے تھے۔ عہد حاضر میں یہاں کے بہت سے مخلص خدام شعر و ادب سرگرم عمل ہیں اور اعلیٰ تخلیق ادب میں مصروف ہیں۔

دبستان بنارس کے بالغ اور بیدار مغز شاعر فریاد آزر دہلی میں مقیم ہیں تازہ فکر اور تازہ کار غزل گو ہیں۔ ان کی شاعری کئی دہائیوں پر محیط ہے اور ان کا ادبی سفر نہایت خلوص و لگن کے ساتھ جاری ہے۔ وہ اپنی دھرتی سے جڑے ہوئے شاعر ہیں۔ انہوں نے عہد حاضر میں اقار کی شکست و ریخت، تہذیب و اخلاق کے عروج و زوال، زندگی کی افرا تفری، نے ہمواریوں اور نامسائد حالات کو دیکھا ہے اس لیے ان کی شاعری میں معاشرتی، تہذیبی و تمدنی موضوعات کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ شعری بصیرت کے ساتھ سماجی و سیاسی مسائل و نکات کا بھی بھرپور شعور رکھتے ہیں جس کا اظہار ان کی شعری کائنات میں بکثرت مل جاتا ہے۔
فریاد آزر کی شاعری میں جدت، ندرت، اختراع اور اچھوتا پن نمایاں ہے غزل اس تہذیب کا نام ہے جس کی دلکشی اس کی رمزیت و اشاریت میں مضمر ہے۔ یہ عناصر تاریخی تلمیحات کے ساتھ ان کی شاعری کے سرور و تلذذ میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے اس نوع کے اشعار ملاحظہ ہوں   ؎
پھر بیعت یزید سے منکر ہوئے حسین
اور ظالموں کی فوج ستم ڈھا رہی ہے پھر
وہ لمحہ سرور عالم کو جب ملی معراج
اسی کے صدقۂ جاں سے سنبھل گئیں صدیاں
تشنگی ایسے لبوں کی کیا بجھا پاتا فرات
مدتوں سے خود تھا جن کی دید کا پیاسا فرات
دفن کر دیتا تھا پیدا ہوتے ہی عہد قدیم
رحم ہی میں مار دیتا ہے اسے دور جدید
گرو کی یاد انگوٹھے سے آنے لگتی ہے
میں جب ہاتھ میں تیر و کمان لیتا ہوں
عہد حاضر مادیت کا دور ہے۔ ہر شخص معاشی نقطہ، نگاہ سے سوچتا ہے۔ بے اطمینانی ہر شخص کا مقدر ہے۔ غیر محفوظیت، قنوطیت اور مایوسی کے ماحول میں انسان اپنی زندگی قسطوں میں بسر کرنے پر مجبور ہ۔ ان موضوعات کا اظہار آزر کے اشعار میں دیکھا جا سکتا ہے:
کیوں نہیں یکبارگی کی موت مرتی زندگی
اے مری جانکاہ قسطوں میں گزرتی زندگی
ہم ایک ساتھ نہیں کرتے گھر کی آرائش
ہم ایسے لوگ بڑھاتے ہیں شان قسطوں میں
پہلے تو سر سے سایہ اٹھا آسمان کا
پھر پائوں کے تلے سے زمیں بھی کھسک گئی
ضد کرتا نہیں سستے کھلونوں کے لیے بھی
یہ بچہ مرا مجھ سے بھی بوڑھا نظر آیا
چلے تو فاصلہ طے ہو نہ پایا لمحوں کا
رکے تو پائوں سے آگے نکل گئیں صدیاں
ہاتھ ملتی رہ گئیں سب خوب سیرت لڑکیاں
خوبصورت لڑکیوں کے ہاتھ پیلے ہوگئے
وہ صبح و شام و روز و شب شدید غم کی لذتیں
نہ جانے کیوں وہی عذاب مانگتی ہے زندگی
شکست و ریخت کے نوحوں کے علاوہ ان کی شاعری میں زندگی دردمندی کا حساس بھی ہے۔ فرید آزر جس زمانی اور مکانی حدود میں رہتے ہیں ان میں در پیش مسائل کو اپنی شاعری میں بڑی مہارت اور سلیقہ کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ان کے شاعری اپنے قاری کو انوکھے کیف و سرور سے سرشار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ کسی ایک نہج پر گفتگو نہیں کرتے بلکہ اپنے شعری اظہار سے وہ انسانی زندگی سے وابستہ مختلف موضوعات پر بات کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ موضوعات کا تنوع ان کے نظام فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے جذباتی و ذہنی تجربات کی نقش گری میں مکمل حسیت کے ساتھ صنف غزل کے فنی التزام اور ڈسپلن کو بھی ہاتھ سے نکلنے نہیں دیا، تاہم وہ محنتی شاعر ہیں۔ انہوں نے اپنی ذہانت اور صلاحیت کی بنیاد پر کئی غر مانوس اور اجنبی قوافی کا بھی استعمال تجربے کے نام پر کیا ہے میری رائے میں اسے شعری
وسعت میں نیک شگون اس لیے نہیں کہا جا سکتا ہے۔ غزل کے مطلع کے ساتھ ہم صوت قوافی والے اشعار درج ذیل ہیں   ؎
آزما کر عالم ابلیس کے حربے جدید
ہوگئے قابض مری صدیوں پہ کچھ لمحے جدید
دفن کر دیتا تھا پیدا ہوتے ہی عہد قدیم
رحم ہی میں مار دیتا ہے اسے دور جدید
کیوں نہیں لے جاتی اب وحشت بھی صحرا کی طرف
بن گیا کیوں شہر از خود آج صحرائے جدید
محل نظر ہے کہ لمحے جدید، حرب جدید کے ساتھ حرف اضافت کے ساتھ دور جدید کو محض صوتی ہم آہنگی کے باعث ہم قافیہ بنایا گیا جو قابل قبول نہیں۔ قوافی کے صوتی نظام میں اس جارحانہ دخل اور غیر ضروری چھیڑ چھاڑ کے عمل سے گریز بہتر تھا۔ خوش بیانی، پرکاری اور معنی آفرینی کلام آزر کی قابل ذکر خصوصیات ہیں۔ عملی طور پر انہوں نے روایت سے قطعی انحراف نہیں کیا ماسوائے مذکورہ بالا غیر صحیح اور ناگوار ظابطہ شکنی کے، جو تجربے کے نام پر ان کے کلام میں گاہے بگاہے در آئی ہے۔ بلکہ انہوں نے جدید فکری نظام کی شجرکاری کی ہے۔
فریاد آزر نہایت شریف الطبع انسان ہیں۔ کاہلی اور سست رفتاری ان کی زندگی کا حصہ ہے۔ دراصل عملی طور پر وہ جس کام کو کرتے ہیں اسے اطمینان اور سکون سے کرتے ہیں۔ ان کے شعری موضوعات کے تنوع کی رنگا رنگی ان کی شعری کائنات۔ ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
چلے تو فاصلہ طے ہو نہ پایا لمحوں کا
رکے تو پائوں سے آگے نکل گئیں صدیاں
تمام عمر ہمیں منزلیں نہیں ملتیں
ہم اہل درد سدا راستے میں رہتے ہیں
اس سادہ دل سے مل کے مجھے بھی یہی لگا
اب تک میں جی رہا تھا دکھاوے کی زندگی
ملی تھی جب اسے جنت تو خوش نہ تھا اتنا
وہ جتنا خوش ہے مجھے دیکھ کر جہنم میں
وہ شخص آج بھی ماضی سے ایسا الجھا ہے
کہ اس کے پائوں جنت میں، سر جہنم میں
تجھ سے بچھڑے تو آغوش مادر میں، پھر پائوں پر، پھر سفر در سفر
دیکھ پھر تجھ سے ملنے کی خواہش میں کب سے لگاتار ہجرت  میں ہیں
صبح ہوتی ہے تو دفتر میں بدل جاتا ہے
یہ مکاں رات کو پھر گھر میں بدل جاتا ہے
ننھے بچپن میں بزرگوں سا تھا جس کا رکھ رکھائو
زندگی کی دوڑ میں وہ آدمی بچہ لگا
اس قدر سبز درختوں کو نہ کاٹو کہیں
سانس لینے کو ترس جائے ہوا بے چاری



ہیں پستیاں ہی مقدر، بلند ہوتے ہوئے

میں خواب دیکھوں حقیقت پسند ہوتے ہوئے
یہ کیسے جرم کی پاداش ہے یہ زندگی جس سے
رہائی مل تو جاتی ہے، سزا پوری نہیں ہوتی
حصہ درد وراثت سے زیادہ ہی ملا
مجھ کو شاید مری قسمت سے زیادہ ہی ملا
لوگ دو گز کے مکانوں میں بھی رہتے ہیں جہاں
کوئی دروازہ، نہ آنگن، نہ دریچہ کوئی
غموں کی قید بھی کتنی عجیب ہے، جس سے
فرار ہوتے ہیں قیدی، بری نہیں ہوتے
درخت یوں ہی اگر سبز سبز کٹتے رہے
بدل نہ جائے زمیں پر نصاب موسم کا
بزرگوں کی کبھی خدمت نہ کر پائے تھے آزر
سو اپنے آپ کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں
اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے
کسی بھی قصہ کا کردار وہ نہیں تھا مگر
بغیر اس کے ہر اک داستاں ادھوری تھی
ہم سمجھنے لگے مجرم ہے ہمیں میں کوئی
حادثہ ایسا رچایا گیا سوچا سمجھا
ضمیر کہتا ہے ایمان ہے تو سب کچھ ہے
زمانہ کہتا ہے پیسہ نہیں تو کچھ بھی نہیں
جی ذرق برق کپڑوں سے اس کا اچٹ گیا
آنکھوں میں بس گئی تھی کفن کی جمالیات
راکشس کی جان طوطے میں تھی اور ہم جیسے لوگ
دم بدم اگ آنے والا سر قلم کرتے رہے
مجموعی طور پر یہ وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ فریاد آزر کی شاعری روشن امکانات کی حامل ہے۔ وہ زرخیز تخلیقی ذہن رکھتے ہیں۔ ان کے تخلیقی عمل میں ہم عصر زمانہ کی نمائندگی اور ترجمانی ہے۔ وہ عصری مسائل کا عرفان رکھتے ہیں اور انسانی نفسیات و احساسات پر گہری نظر، جو ان کی شاعری کو مقصدیت عطا کرتی ہے۔ فریاد آزر نہایت لگن، توجہ اور دل جمعی کے ساتھ شعری ریاضت میں مصروف ہیں۔




منگل، 29 اکتوبر، 2013

فریادآزرکی تخلیقی آزری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کوثر مظہری

                           
فریاد آزرؔ کی تخلیقی آزری             

ڈاکٹر کوثرؔ مظہری
شعبہء اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ
                             اردو غزل میں جو تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اس کے واضح نقوش بہت کم شاعروں کے یہاں نظر آتے ہیں۔اپنے عہد کی ستم ظریفیوں ور عیاریوں کو آئینہ دکھانے کی ہمت ہر شاعر میں نہیں ہوتی ۔اس کام کے لئے صفائے باطن اور شعورِ فن کے ساتھ ساتھ تخلیقی قوت چاہئے۔ فریاد آزر ایک ایسے شاعر ہیں جو ۱۹۸۰ کے بعد کی ادبی نسل میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ان کی غزلوں میں فرد کی بے ضمیری اور معاشرے کی بے مروتی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ اشعار دیکھئے: 
پھر میں سچ بولنے والا ہوں یزیدوں کے خلاف
پھر مرے سر پہ وہ شمشیر نظر آنے لگی
۔۔۔۔۔۔
اب تو ہر شہر ہے اک شہرِطلسمی کہ جہاں
جو بھی جاتا ہے وہ پتھر میں بدل جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنی لاش کو تنہا ہی د فن کر لوں گا
کہ تم بھی جاؤ ،سبھی لوگ گھر گئے اپنے
فریاد آزرؔ نے ر شتوں کے ٹوٹنے اور آدمی کے بکھر جانے کو بھی اپنے شعروں میں پیش کیا شعر ملاحظہ کیجئے:
نہ کوئی دوست نہ ساتھی نہ کوئی رشتہ دار
غریب کیا ہوئے سب لوگ مر گئے اپنے
۔۔۔۔
بسا رہا ہے ہر اک فرد اک الگ ہی جہاں
بکھر رہا ہے ہر اک خاندان قسطوں میں
۔۔۔۔۔۔
فریاد آزر نے غزل کے چہرے سے پردۂ الہام کو چاک کیا ہے۔وہ صاف گوئی سے کام لیتے ہیں اورمعاشرے میں جو تبدیلی رونما ہو رہی ہے یا ہو چکی ہے اسکی نشاندہی کرتے ہیں وہ جدید ذہنوں اور جدید تہذیبی بساط پر کھڑی نئی نسل کو طنز کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔آزر کے فکری ابعاد کی زد میں عہدِجدید اور عہدِقدیم دونوں ہیں۔ یہاں ایک ہی غزل کے دو شعردیکھئے: 
دفن کر دیتا تھا پیدا ہوتے ہی عہدِقدیم
رحم ہی میں مار دیتا ہے اسے دورِجدید
۔۔۔۔۔
سب سنائی دیتا ہے آزرؔ اذانوں کے سوا
محوِِ حیرت ہیں کہ ہم بھی ہو گئے کتنے جدید

تہذیبی سفاکیت کو آئینہ دکھانے کا کام نئی غزل میں خوب کیا گیا ہے لیکن فریاد آزر کے یہاں یہ رنگ قدرے تیز ہے۔ موضو ع اور موتف پر غور کیجئے اور اوپر ذکر کئے گئے انسانی بے بسی کے حوالے سے چند شعر دیکھئے: 
(۲)
عجیب طور کی مجھ کوسزاسنائی گئی
بدن کے نیزے پہ سر رکھ دیا گیا میرا
۔۔۔۔
پانوں کے نیچے سلگتی ریت، صدیوں کا سفر
اور سر پر بارِ سقفِ آسماں جلتا ہوا
۔۔۔۔۔۔۔
آتا تھا دیر رات کو جاتا علی الصباح
بچے اسے سمجھتے تھے دفتر کا آدمی
انسان کبھی کبھی غفلت شعاری میں اپنی عمر کے قیمتی لمحات گنوا دیتا ہے۔ اسے پتہ نہیں ہوتا کہ مستقبل کی کامیابی کا راز حال کی محنت اور مشقت میں ہے۔ فریاد آزر ؔ نے بڑی خوبصورتی سے اس مضمون کو پیش کیا ہے۔ 
ہم نے گزار دی جسے چھاؤں میں بیٹھ کر 
وہ زندگی تھی دھوپ سے لڑنے کی زندگی
اسی طرح کبھی انسانی پس و پیش اور کشمکش کے موضوع کو آزرؔ پیش کرتے ہیں، کبھی کبھی انسان کے لئے ایک لمحہ بھی بھاری پڑتا ہے اور کبھی ذرا سی غفلت سے انسان بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔شعورِ ذات کی کلید احساسِ لطیف ہے۔دونوں کی ہم آہنگی سے ہی فکری بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔آزرؔ اس راز سے واقف ہیں۔ زمانے کی ستم ظریفی اور گردشِ ایام پر ان کی گہری نظر ہے۔جس کے اندر ذرا بھی جھجھک ہے( بلکہ میں اس جھجھک کو میں تہذیبی رکھ رکھاؤ کہوں گا) وہ زمانے کی تیز رفتاری کا ساتھ نہیں دے سکتا ۔ فریاد آزر نے اسی بات کو تخلیقیت کے عناصر میں گھلا ملا کر یوں پیش کیا ہے: 
چلے تو فاصلہ طے ہو نہ پایا لمحوں کا 
رکے تو پاؤں سے آگے نکل گئیں صدیاں
۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے دریغ کئے جا رہا تھا قتل مرا 
میں منتظر تھا کہ اس پر عذاب اترے گا
فساد بہت ہی سامنے کا موضوع ہے۔اس عہد کا شاید ہی کوئی شاعر ہوگا جس نے فساد کے حوالے سے ایک آدھ شعر نہ کہے ہوں۔ اس کو آزرؔ یوں پیش کرتے ہیں۔
جہاں فساد میں اعضائے جسم کٹ کے گرے
اسی زمین سے ہم لخت لخت اگنے لگے

فریاد آزرؔ اس دور کے شاعر ہیں لہٰذا س عہد کے کرب کو انھوں نے سمجھا ہے، محسوس کیا ہے معاملہ چاہے ذاتی ہو، سماجی ہو یا بین اقوامی، انکی نگاہ ہر اہم موضوع پر ضرور پڑتی ہے۔ چاہے معاملہ سائنسی ترقیات اور خلائی سیارچوں کا ہو جس کے زریعہ آج نہیں تو کل اسٹار وار ہونا ہی ہونا ہے،یا پھر زمینی، فضائی یا خلائی آلودگی کا ہو یا بین اقوامی دہشت گردی اور اس کو بہانہ بنا کر پوری دنیا میں ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کی جگہ جگہ نسل کشی ہو ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اس کو بغور دیکھ رہا ہے اور اس پر آنسوبہا رہا ہے۔ ایسے اشعار کی تعداد بہت ہے بخوفِ طوالت محض چند اشعار پیش ہیں۔ 
خلاؤں میں بھی شر پھیلا رہا ہے
پرندہ کتنا پر پھیلا رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
(۳)
فضائے شہر آلودہ بنا کر
وہ گاؤں پر نظر پھیلا رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون جائے ذوقؔ اب دلّی کی گلیاں چھوڑ کر
صبح کی تازہ ہوا لے آئیں گے دوکان سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ ملتی رہ گئیں سب خوب سیرت لڑکیاں
خوب صورت لڑکیوں کے ہاتھ پیلے ہو گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔
فضا کتنی بھی آلودہ ہو آزرؔ 
ہمارے ذہنوں سے بہتر ہے اب بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس قبیلے کے لہومیں ذائقہ اتنا لگا
جس کو بھی دیکھا ،اسی کے خون کا پیاسا لگا
اس قدر آنکھیں کھلی رکھنے والا انسان ہی صحیح معنوں میں شاعر ی کا حق ادا کر سکتا ہے ورنہ ذاتی مشغلہ کی بنیاد پر اشعار کہنے والوں کی ایک کثیر تعداد ہر دور میں موجود رہتی مگر وقت انھیں بھلا دیتا ہے۔ فریاد آزرؔ ایسے شاعر ہیں جنھیں نہ تو غزل کی تاریخ فراموش کر سکتی نہ ہی وقت کاغباران کے افکار کو دھندلا کر سکتا ہے۔ بہر حال غزل گوئی میں فریاد آزرؔ کی ریاضت جاری ہے۔ مجھے امید ہے کہ نئی غزلیہ شاعری کے متون میں ان کی زبر دست حصہ د اری رہے گی۔